پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پارٹی کے بانی نے کسی قسم کی ڈیل نہیں کی۔ ایکسپریس اردو کے مطابق انہوں نے یہ بات سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست سے متعلق آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ یہ بیرسٹر گوہر کا سیاسی اور قانونی موقف ہے؛ رپورٹ میں کسی دوسرے فریق کی جانب سے ڈیل کے وجود یا عدم وجود کی الگ تصدیق شامل نہیں۔

بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر عمل نہیں ہوا اور اسی وجہ سے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ ان کے مطابق چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات کی کوشش کی گئی مگر مصروفیت کے باعث ملاقات نہ ہوسکی، جس کے بعد پارٹی نمائندوں نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے رابطہ کیا اور مقدمہ جلد مقرر کرنے کی استدعا کی۔ مقدمہ مقرر ہونے یا عدالت کی جانب سے توہین ثابت کیے جانے کی خبر اس رپورٹ میں موجود نہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ رجسٹرار نے کیس کی فائل چیف جسٹس کے سامنے رکھنے کی بات کی ہے۔ انہوں نے عدالت سے عدالتی حکم پر عمل درآمد کرانے کا مطالبہ بھی دہرایا۔ اس بیان کو عدالتی فیصلہ یا رجسٹری کی باضابطہ تحریری یقین دہانی نہیں سمجھا جا سکتا؛ یہ میڈیا گفتگو میں بیان کیا گیا ان کا موقف ہے، جبکہ آئندہ سماعت کی حتمی تاریخ عدالت کی کاز لسٹ یا باضابطہ حکم سے واضح ہوگی۔

میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے اسپتال منتقلی کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا عدالت کسی شخص کو اسپتال بھیجنے کا حکم نہیں دے سکتی۔ انہوں نے 26 نومبر سے متعلق مقدمات اور پارٹی کارکنوں کے بارے میں بھی اپنے دعوے دہرائے۔ رپورٹ میں ان واقعات کے عدالتی ریکارڈ، زخمیوں یا اموات کی نئی آزادانہ تصدیق شامل نہیں، اس لیے ان نکات کو پارٹی سربراہ کے بیان کے طور پر ہی پیش کیا جارہا ہے۔

ایک صحافی نے محسن نقوی کے ساتھ مبینہ ملاقاتوں کے بارے میں سوال کیا تو بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ ملاقاتیں وقتاً فوقتاً ہوتی رہی ہیں، مگر انہوں نے ان کی تفصیل بتانے سے انکار کیا۔ انہوں نے اس سوال کے جواب میں بھی بانی پی ٹی آئی کی کسی ڈیل کی تردید کی۔ ملاقاتوں کا ہونا، ان کا ایجنڈا اور ممکنہ نتائج الگ حقائق ہیں؛ موجودہ رپورٹ کسی خفیہ سمجھوتے یا مذاکراتی نتیجے کا دعویٰ نہیں کرتی۔

اس پیش رفت کا اگلا قابلِ تصدیق مرحلہ توہینِ عدالت کی درخواست کا عدالتی نمبر، سماعت کی تاریخ اور سپریم کورٹ کا باضابطہ حکم ہوگا۔ تب تک ڈیل سے متعلق بات سیاسی تردید ہے اور حکم عدولی کا معاملہ درخواست گزار کا الزام۔ اردو ہیڈ لائنز نے خبر کو ایکسپریس اردو میں شائع شدہ گفتگو تک محدود رکھا ہے اور کسی زیرِ سماعت معاملے کے نتیجے یا ذمہ داری کے بارے میں قیاس شامل نہیں کیا۔