مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی سات مخصوص نشستوں کے لیے پیر کو پولنگ شروع ہوئی، جو ڈان کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق صبح دس بجے سے دوپہر ایک بجے تک جاری رہنا تھی۔ دستیاب رپورٹ پولنگ کے آغاز کے وقت کی ہے؛ اس میں حتمی نتائج شامل نہیں، اس لیے خبر میں کسی امیدوار کی کامیابی کا پیشگی دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔

آزاد کشمیر کے آئین کی دفعہ 22 کی ذیلی دفعہ ایک کے تحت قانون ساز اسمبلی 53 ارکان پر مشتمل ہے۔ ان میں 45 ارکان بالغ رائے دہی کے ذریعے براہ راست منتخب ہوتے ہیں، جبکہ آٹھ ارکان کا انتخاب براہ راست منتخب نمائندے کرتے ہیں۔ مخصوص نشستوں میں خواتین کے لیے پانچ اور علما و مشائخ، بیرونِ ملک مقیم ریاستی باشندوں، اور ٹیکنوکریٹس و دوسرے پیشہ ور افراد کے لیے ایک ایک نشست شامل ہے۔

مسلم لیگ ن کے چوہدری عبدالرحمن آرائیں بیرونِ ملک ریاستی باشندوں کے لیے مخصوص نشست پر واحد امیدوار تھے، اس لیے انہیں بلامقابلہ منتخب قرار دیا گیا۔ باقی سات نشستوں کے انتخاب میں اب تک منتخب ہونے والے 38 براہ راست ارکان حصہ لے رہے ہیں۔ ڈان کے مطابق یہ تعداد براہ راست منتخب رکنیت کا 84.4 فیصد بنتی ہے، کیونکہ پونچھ کی پانچ اور سدھنوتی کی دو نشستوں پر امن و امان کی صورت حال کے باعث انتخاب نہ ہو سکا۔

خواتین کی پانچ نشستوں کے لیے چھ امیدوار میدان میں ہیں۔ مسلم لیگ ن کی امیدواروں میں رفعت عابد، سحرش قمر، مریم ادریس اور مریم زمان شامل ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے فرزانہ یعقوب اور زوبیہ خورشید راجہ انتخاب لڑ رہی ہیں۔ علما و مشائخ کی نشست پر پیپلز پارٹی کے حافظ طارق محمود اور مسلم لیگ ن کے محمد مظہر سعید، جبکہ ٹیکنوکریٹس کی نشست پر مسلم لیگ ن کے بیرسٹر سید افتخار گیلانی اور پیپلز پارٹی کے صاحبزادہ ذوالفقار علی مقابل ہیں۔

نئی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس پیر کو دوپہر دو بجے طلب کیا گیا، جہاں نئے ارکان نے سبکدوش ہونے والے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر سے حلف لینا تھا۔ براہ راست منتخب 38 نشستوں میں مسلم لیگ ن نے 25 اور پیپلز پارٹی نے 12 نشستیں حاصل کیں، جبکہ عوامی دست و بازو پارٹی کا واحد منتخب رکن مسلم لیگ ن کے ساتھ شامل ہوا۔ پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں؛ یہ پارٹی کا دعویٰ ہے، کوئی حتمی عدالتی یا انتخابی فیصلہ نہیں۔ حتمی مخصوص نشستوں کے نتائج سامنے آنے پر انہیں الگ پیش رفت سمجھا جائے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک