کراچی: شہر کا گارڈن واٹر پمپنگ اسٹیشن کم از کم 21 سال غیر فعال رہنے کے بعد بحال کر دیا گیا ہے۔ ڈان کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اسٹیشن کا افتتاح کیا اور کہا کہ اس سہولت سے پانی کی فراہمی فوری طور پر شروع کی جائے گی۔

میئر، جو کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں، کے مطابق پمپنگ اسٹیشن 2005 میں قائم کیا گیا تھا لیکن اس وقت بجلی کا کنکشن نہ ہونے کے باعث مشینری چل نہ سکی۔ بحالی پر 3 کروڑ 2 لاکھ 50 ہزار روپے خرچ ہوئے۔ یہ رقم اور منصوبے کے فوائد سرکاری بیان سے منسوب ہیں؛ آزادانہ تکنیکی آڈٹ کی تفصیل زیرِ حوالہ رپورٹ میں موجود نہیں۔

بحالی کے دوران عمارت، پینل روم، عملے کے کمرے اور چار دیواری کی مرمت کی گئی۔ دو 125 ہارس پاور برقی موٹرز درست کی گئیں، دو نئے موٹر کنٹرول بورڈ لگائے گئے اور مختلف سائز کی پی وی سی اور لو ٹینشن کیبلز نصب کی گئیں۔ ان اقدامات کا مقصد طویل عرصے سے بند مشینری کو قابلِ استعمال بنانا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 24 انچ قطر کی لائن سے نشتر روڈ، گارڈن، گھاس منڈی، گھنچی پاڑہ، رنچھوڑ لائن، رامسوامی اور ملحقہ علاقوں کو پانی فراہم کیا جائے گا۔ اسی نظام سے مرزا آدم خان روڈ، دھوبی گھاٹ، لیاری اور قرب و جوار بھی مستفید ہوں گے، جبکہ 18 انچ لائن عثمان آباد، بادشاہی روڈ، عظیم پلازہ اور نزدیکی علاقوں کے لیے استعمال ہوگی۔

میئر نے اندازہ دیا کہ تقریباً تین لاکھ رہائشیوں کو بحالی سے فائدہ پہنچے گا اور گارڈن، سولجر بازار، لیاری اور آس پاس کے پانی کے نظام میں بہتری آئے گی۔ یہ افتتاح اور تکنیکی بحالی تصدیق شدہ پیش رفت ہے، مگر پانی کی مسلسل مقدار، دباؤ اور ہر محلے تک عملی رسائی کا نتیجہ وقت کے ساتھ صارفین اور ادارے کے ڈیٹا سے واضح ہوگا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک