لاہور: گرم اور مرطوب موسم کے دوران لاہور کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بار بار ٹرپنگ، شیڈول اور غیر شیڈول لوڈشیڈنگ اور طویل مرمتی بندشوں کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ڈان کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق یہ مسائل خاص طور پر شام اور رات کے اوقات میں روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔
جوہر ٹاؤن اور خیابانِ جناح کے رہائشیوں نے بتایا کہ کئی روز سے ٹرپنگ اور اچانک بندشیں جاری ہیں۔ بعض صارفین کے مطابق اتوار کو مرمت کے نام پر چھ گھنٹے سے زیادہ بجلی بند رہتی ہے، جبکہ وولٹیج میں کمی اور اچانک خرابی سے گھریلو آلات کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔ یہ تفصیلات متاثرہ صارفین کے بیانات پر مبنی ہیں اور ہر علاقے کے لیے یکساں دورانیہ ثابت نہیں کرتیں۔
رپورٹ میں جوہر ٹاؤن، اچھرہ، اولڈ انارکلی، رحمان پورہ، گلبرگ، ملتان روڈ، ٹھوکر نیاز بیگ، چوبرجی، باٹا پور، شاہدرہ اور مانگا سمیت متعدد علاقوں کا ذکر کیا گیا۔ ایک رہائشی نے کہا کہ اوورلوڈنگ سے ٹرانسفارمر خراب ہونے پر اس کے علاقے میں تقریباً 18 گھنٹے بجلی بند رہی۔
لیسکو کے ایک عہدیدار نے شام اور رات میں نظام پر اضافی بوجھ اور بجلی کی کمی کو مسئلے کی وجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق دن میں بہت سے صارفین شمسی توانائی استعمال کرتے ہیں، لیکن شام کو یہی بوجھ لیسکو کے نظام پر منتقل ہونے سے طلب تیزی سے بڑھ جاتی ہے اور جبری لوڈشیڈنگ کی نوبت آتی ہے۔ ایک دوسرے عہدیدار نے باٹا پور، مانگا اور قصور کے بعض دیہی علاقوں میں ہائی لاس فیڈرز کی پالیسی کو لوڈشیڈنگ کی وجہ بتایا۔
رپورٹ کے مطابق لیسکو کے چیف ایگزیکٹو اور ترجمان سے باضابطہ مؤقف کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن جواب نہیں ملا۔ ادارے نے الگ کارروائی میں قصور سرکل کے بعض علاقوں سے چھ ٹرانسفارمر اور سات میٹر اتارنے، تین افراد کی گرفتاری اور بقایا واجبات وصول کرنے کی اطلاع دی۔ صارفین کی شکایات، عہدیداروں کی وضاحت اور چوری مخالف کارروائی تین الگ پہلو ہیں؛ ان میں سے کوئی بھی ہر بندش کی واحد وجہ ثابت نہیں کرتا۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




