گوادر: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں گبد بارڈر کراسنگ اور گوادر شہر کے قریب حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ایک خاتون سمیت 10 دہشت گرد مارے گئے۔ فوجی بیان کے مطابق حملے جمعرات کو کیے گئے تھے اور ان میں ایک شہری جاں بحق جبکہ متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کی کارروائی ناکام بنائی اور بعد ازاں علاقے میں آپریشن مکمل کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔ فوج نے حملہ آوروں کو ریاست کی جانب سے استعمال کی جانے والی اصطلاح ’فتنہ الہندوستان‘ سے منسوب کیا اور انہیں بھارتی سرپرستی یافتہ قرار دیا۔ یہ نسبت پاکستانی فوج کا سرکاری دعویٰ ہے؛ دستیاب رپورٹ میں بھارت کی جانب سے اس مخصوص الزام پر کوئی ردعمل شامل نہیں تھا۔

فوجی بیان میں ایک خاتون کے حملے میں شامل ہونے کا بھی ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ خواتین کو ایسی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔ آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اسے وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ قومی ایکشن پلان کے تحت عزم استحکام کے وسیع تر انسداد دہشت گردی فریم ورک سے جوڑا۔

صدر آصف علی زرداری نے بھی گوادر میں حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور شہری کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے بلوچستان میں امن اور ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کی مذمت کی۔

ایک روز قبل سرکاری میڈیا نے گوادر میں ایک غیر آباد تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملے کی کوشش ناکام بنانے اور تین دہشت گردوں کی ہلاکت کی ابتدائی اطلاع دی تھی، جبکہ قریب واقع ایک ہوٹل میں چھپے مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی جاری ہونے کا بتایا گیا تھا۔ تازہ آئی ایس پی آر بیان نے وسیع تر کارروائیوں کے اختتام اور مجموعی طور پر 10 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ ہلاکتوں اور حملہ آوروں کی شناخت سے متعلق بنیادی معلومات فوجی بیان پر مبنی ہیں اور آزادانہ طور پر تمام تفصیلات کی تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں تھی۔