اسلام آباد: مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو پاکستان کا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہوگئے۔ ان کے ہمراہ خاتون اول ساجدہ محمد اور ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی تھا۔ دورہ ایسے وقت ہوا جب پاکستان اور مالدیپ اپنے سفارتی تعلقات کے ساٹھ سال مکمل ہونے کے موقع پر دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق صدر معیزو نے دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور باہمی دلچسپی کے دیگر شعبوں میں تعاون پر گفتگو ہوئی۔
دورے کے دوران مختلف شعبوں سے متعلق معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ پاکستان مالدیپ بزنس فورم کا انعقاد ہوا جس کا مقصد دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان رابطے بڑھانا اور تجارت و سرمایہ کاری کے نئے امکانات تلاش کرنا تھا۔ سرکاری رپورٹ میں اس خبر کے ضمن میں تمام معاہدوں کی مالی مالیت یا مستقبل کے تجارتی حجم کا کوئی حتمی ہدف نہیں دیا گیا، اس لیے عملی نتائج متعلقہ منصوبوں اور سمجھوتوں کے نفاذ سے سامنے آئیں گے۔
پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات جنوبی ایشیا اور بحر ہند کے وسیع تر علاقائی تناظر میں بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک اسلامی تعاون کی تنظیم سمیت متعدد بین الاقوامی فورمز پر رابطہ رکھتے ہیں اور سفارتی تعلقات کی چھ دہائیوں کے دوران سیاسی اور عوامی سطح پر روابط برقرار رہے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق دورے نے دونوں ملکوں کی قیادت کو تعلقات کو زیادہ وسیع اور مستقبل پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کرنے کا موقع دیا۔ صدر معیزو کی روانگی کے ساتھ سرکاری دورہ مکمل ہوگیا، جبکہ معاہدوں، کاروباری روابط اور سرمایہ کاری سے متعلق آئندہ پیش رفت متعلقہ اداروں کی فالو اپ کارروائی سے واضح ہوگی۔

