پشاور: چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پشاور کور ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، جہاں انہیں خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال، جاری انسداد دہشت گردی کارروائیوں، سرحدی انتظامات اور مختلف فارمیشنز کی آپریشنل تیاری کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق پشاور پہنچنے پر کور کمانڈر نے ان کا استقبال کیا۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افواج کے مورال اور پیشہ ورانہ معیار کو سراہا اور اہلکاروں کو ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مسلسل چوکس رہنے اور اعلیٰ ترین آپریشنل تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مہم جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ فوجی بیان میں بعض گروہوں کو بھارت کی سرپرستی یافتہ قرار دیا گیا؛ یہ الزام پاکستانی فوج کے سرکاری مؤقف کے طور پر منسوب ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت ہوا ہے جب خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز کو دہشت گرد حملوں اور مسلح کارروائیوں کا سامنا ہے۔ کرک میں حالیہ سرچ آپریشن کے دوران چار پولیس اہلکاروں کی شہادت سمیت مختلف واقعات نے صوبے کی سکیورٹی صورتحال کو دوبارہ نمایاں کیا ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر انسداد دہشت گردی، بارڈر مینجمنٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے پر توجہ بڑھائی جا رہی ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری معلومات میں دورے کے دوران کسی نئی مخصوص فوجی کارروائی یا الگ آپریشن کے آغاز کا اعلان نہیں کیا گیا۔ بیان کا مرکزی نکتہ جاری انسداد دہشت گردی مہم، فارمیشنز کی تیاری اور خطرات کے مقابلے کے لیے چوکس رہنے کی ہدایت تھا۔ خطے میں سکیورٹی کے موجودہ حالات کے باعث پشاور کور کی ذمہ داریاں سرحدی نگرانی اور داخلی انسداد دہشت گردی دونوں حوالوں سے اہم ہیں، اور فوجی قیادت نے اسی تناظر میں آپریشنل تیاری برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔