پشاور: چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پشاور میں کور ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں انہیں خیبر پختونخوا کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور جاری انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ سرکاری بیان کے مطابق دورے کا مرکز صوبے میں دہشت گردی کے خطرات، آپریشنل تیاری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون تھا۔
بریفنگ میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں، سرحدی علاقوں میں نگرانی اور سکیورٹی فورسز کی موجودہ حکمت عملی سے متعلق امور زیر بحث آئے۔ فیلڈ مارشل نے فوجی افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور مشکل حالات میں ذمہ داریاں ادا کرنے کے عزم کو سراہا۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق انہوں نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جانیں قربان کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ریاستی ادارے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ بیان میں کسی مخصوص نئے آپریشن کے آغاز، کسی تازہ ہلاکت یا گرفتاری کی الگ تعداد کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے دورے کو بنیادی طور پر آپریشنل جائزے اور پالیسی ہدایات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ عرصے کے دوران سکیورٹی فورسز اور پولیس کو متعدد دہشت گرد حملوں اور مسلح کارروائیوں کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں کور ہیڈکوارٹرز میں ہونے والی بریفنگ صوبے کی سکیورٹی حکمت عملی، سرحدی نگرانی اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ سرکاری بیان میں پیش کیے گئے نکات فوجی قیادت کے جائزے اور عزم کی عکاسی کرتے ہیں؛ زمینی سطح پر آپریشنل نتائج متعلقہ اداروں کی آئندہ باضابطہ اطلاعات سے واضح ہوں گے۔

