سرکاری حج اسکیم 2027 کے لیے 84 ہزار خواہش مند عازمین نے پہلی قسط جمع کرا دی ہے۔ ایکسپریس اردو کی براہ راست دیکھی گئی رپورٹ میں وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ادائیگی کا عمل ڈیجیٹل پورٹل اور پاک حج ایپ کے ذریعے جاری ہے۔ یہ تعداد پہلی قسط ادا کرنے والے درخواست گزاروں کی ہے؛ اسے حتمی طور پر تمام مراحل مکمل کرکے سفر کی قطعی منظوری حاصل کرنے والوں کی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔
ترجمان کے مطابق طویل مدت والے حج پیکیج کی 30 ہزار نشستیں پُر ہوچکی ہیں جبکہ 23 ہزار 500 نشستیں باقی ہیں۔ وزارت نے درخواست گزاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنا ڈیٹا اور واجب الادا رقم جلد مکمل کریں، کیونکہ مخصوص پیکیج کی بکنگ مقررہ کوٹا پُر ہونے پر بند ہوجائے گی۔ نشست کی دستیابی ہر درخواست گزار کی ادائیگی اور درخواست کے مکمل ہونے کے وقت سے جڑی رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق پاک حج ایپ اور متعلقہ پورٹل پر ادائیگی کے تین طریقے فراہم کیے گئے ہیں۔ پہلی قسطوں کی مد میں 52 ارب 50 کروڑ روپے موصول ہونے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ یہ رقم موجودہ مرحلے کی وصولیوں کی مجموعی اطلاع ہے؛ خبر میں ہر پیکیج کی حتمی مکمل لاگت، باقی اقساط، ہوائی سفر کے شیڈول یا سعودی عرب میں رہائش کی انفرادی تفصیلات بیان نہیں ہوئیں۔
درخواست گزاروں کے لیے عملی طور پر اہم بات یہ ہے کہ صرف رقم جمع کرانے کے بعد بھی پروفائل، شناختی معلومات، پیکیج کے انتخاب اور دیگر مطلوبہ خانوں کی درست تکمیل ضروری ہوسکتی ہے۔ کسی نام، پاسپورٹ یا ادائیگی کی غلطی کی صورت میں صرف وزارت مذہبی امور، پاک حج ایپ یا مقررہ بینک کے سرکاری ذرائع سے رہنمائی لینا زیادہ محفوظ ہے۔ غیر متعلقہ افراد کو شناختی یا مالی معلومات دینا خطرناک ہوسکتا ہے۔
طویل پیکیج کی باقی نشستوں کا اعلان ان افراد کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جو قیام کی مدت کے مطابق انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم نشستوں کی تعداد تیزی سے بدل سکتی ہے، اس لیے خبر میں دی گئی دستیابی کو مستقل ضمانت نہیں سمجھنا چاہیے۔ درخواست مکمل کرتے وقت پورٹل پر دکھائی جانے والی تازہ حیثیت ہی فیصلہ کن ہوگی۔
اردو ہیڈ لائنز اس اطلاع کو وزارت کے ترجمان کے بیان پر مبنی موجودہ انتظامی پیش رفت کے طور پر شائع کر رہا ہے۔ حتمی کوٹا، اگلی قسط، میڈیکل تقاضے، تربیتی شیڈول، پروازوں یا رہائش کی تفصیلات جاری ہونے پر اسی ریکارڈ میں مادی اپ ڈیٹ کی جائے گی تاکہ عازمین کو ایک ہی خبر میں تازہ اور مربوط معلومات مل سکیں۔




