پاکستان نیوی کی نئی شامل ہونے والی Hangor-class آبدوز PNS/M HANGOR نے شمالی بحیرۂ عرب میں اپنی پہلی لائیو ویپن فائرنگ کامیابی سے مکمل کی۔ آئی ایس پی آر اور سرکاری خبر رساں ذرائع کے مطابق آبدوز نے ایک anti-ship cruise missile کے ذریعے مقررہ طویل فاصلے کے ہدف کو درستگی سے نشانہ بنایا۔ فائرنگ کا مشاہدہ چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کیا، جنہوں نے آبدوز کی جنگی صلاحیت اور زیرِ سطح دفاعی قوت بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔

Hangor-class آبدوز پاکستان نیوی کے جدید کاری پروگرام کا اہم حصہ ہے۔ پہلی آبدوز جون 2026 میں کراچی پورٹ پہنچی تھی اور اسے جدید combat systems، sensors، Air Independent Propulsion یعنی AIP ٹیکنالوجی اور بہتر stealth خصوصیات سے لیس بتایا گیا ہے۔ AIP نظام روایتی ڈیزل الیکٹرک آبدوزوں کو نسبتاً زیادہ عرصہ پانی کے اندر رہنے میں مدد دیتا ہے، جس سے ان کی operational endurance اور پوشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

پاکستان نیوی مجموعی طور پر آٹھ Hangor-class آبدوزیں شامل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس پروگرام کو پاکستان اور چین کے دفاعی تعاون کے ایک بڑے منصوبے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس سے قبل نئی کلاس کی آبدوزوں کی تعمیر اور لانچنگ کے مختلف مراحل چین میں مکمل ہوئے، جبکہ پروگرام کا مقصد پاکستان نیوی کی زیرِ سطح نگرانی، سمندری راستوں کے دفاع اور deterrence کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔

آئی ایس پی آر نے اس فائرنگ کو operational readiness کا ایک اہم مظاہرہ قرار دیا۔ بیان کے مطابق طویل فاصلے کے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے سے عملے کی تربیت، ہتھیاروں کے نظام اور آبدوز کے combat integration کی آزمائش ہوئی۔ تاہم سرکاری بیان میں میزائل کے مخصوص ماڈل، ہدف کے درست فاصلے یا تکنیکی ٹیسٹ ڈیٹا کی تفصیل جاری نہیں کی گئی، اس لیے خبر میں انہی تصدیق شدہ نکات تک محدود رہا گیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس کامیاب فائرنگ پر پاکستان نیوی کو مبارکباد دی۔ وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق کامیاب long-range engagement کو آبدوز فورس کی operational readiness اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا اظہار قرار دیا گیا۔

Hangor نام پاکستان نیوی کی تاریخ میں 1971 کی جنگ سے منسلک ہے، جب سابق PNS Hangor نے بھارتی فریگیٹ INS Khukri کو نشانہ بنایا تھا۔ نئی Hangor-class آبدوزوں کو اسی تاریخی نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ تازہ live firing اس نئی کلاس کی operationalisation کے عمل میں ایک اہم مرحلہ ہے، لیکن اس سے متعلق مستقبل کی تعیناتیوں اور مکمل fleet induction کی تفصیلات پاکستان نیوی کے آئندہ باضابطہ اعلانات سے واضح ہوں گی۔