خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں سکیورٹی فورسز کے قافلے اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے میں دو افسران سمیت چھ اہلکار شہید جبکہ آٹھ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق واقعہ اتوار کو پیش آیا اور جھڑپ کے بعد علاقے میں مزید ممکنہ دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن شروع کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والے افسران میں 23 سالہ کیپٹن ابوزر فاروق، جن کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا، اور 22 سالہ لیفٹیننٹ شیراز بابر، جن کا تعلق چکوال سے تھا، شامل ہیں۔ فوجی بیان میں کہا گیا کہ دونوں افسران اپنے دستوں کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ تین سپاہی اور ایک نان کمبیٹنٹ بھی جان سے گئے۔ بیان کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں آٹھ دہشت گرد مارے گئے۔
فوج کے میڈیا ونگ نے ہلاک ہونے والے مسلح افراد کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک قرار دیا۔ ریاستی ادارے ٹی ٹی پی کے لیے ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ علاقے میں کارروائی اس مقصد سے جاری ہے کہ کسی دوسرے مسلح شخص کی موجودگی کی صورت میں اسے تلاش کیا جا سکے۔ دہشت گردوں کی مبینہ بیرونی سرپرستی سے متعلق دعویٰ بھی فوجی بیان کا حصہ ہے؛ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق خبر کے دستیاب ماخذ سے نہیں کی گئی۔
ہنگو اور اس سے ملحق خیبر پختونخوا کے اضلاع حالیہ مہینوں میں متعدد پرتشدد واقعات کا سامنا کر چکے ہیں۔ ڈان کے مطابق اس واقعے سے دو روز پہلے کوہاٹ پولیس لائنز کے قریب حملے میں 23 افراد جان سے گئے تھے، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے، جبکہ بعد کے کلیئرنس آپریشن میں آٹھ حملہ آور مارے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔ اگست میں بھی ہنگو میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران ایک کیپٹن شہید اور سات دہشت گرد ہلاک ہونے کی خبر سامنے آئی تھی۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ واقعے میں جانی نقصان ایسے وقت ہوا ہے جب خیبر پختونخوا میں پولیس اور سکیورٹی اداروں پر حملوں کے باعث حفاظتی انتظامات اور انسداد دہشت گردی حکمت عملی دوبارہ توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دستیاب سرکاری معلومات کے مطابق ہنگو واقعے کے بعد فوری ترجیح علاقے کی کلیئرنس اور کسی ممکنہ اضافی خطرے کی نشاندہی ہے۔
