کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں ایک کوئلہ کان کے اندر گیس جمع ہونے کے بعد ہونے والے دھماکے میں چار کان کن جاں بحق جبکہ چار زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق حادثہ پی ایم ڈی سی کول مائن 151 میں پیش آیا، جہاں میتھین گیس کے جمع ہونے کے نتیجے میں زور دار دھماکا ہوا اور اس کے بعد کان کے اندر آگ بھڑک اٹھی۔

بلوچستان کے چیف انسپکٹر آف مائنز محمد عاطف خان نے ڈان کو بتایا کہ دھماکے کے وقت آٹھ کان کن کان کی گہرائی میں موجود تھے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں اور ضلعی انتظامیہ موقع پر پہنچیں اور پھنسے ہوئے کارکنوں کو نکالنے کے لیے کارروائی شروع کی گئی۔ حکام کے مطابق چار کان کنوں کی لاشیں نکالی گئیں جبکہ چار افراد کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا۔ سرکاری ریڈیو نے فوج کی جانب سے بھی ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے کی اطلاع دی، اگرچہ زخمیوں یا زندہ نکالے گئے افراد کی تعداد سے متعلق ابتدائی سرکاری اطلاعات میں معمولی فرق سامنے آیا۔

ضروری کارروائی کے بعد جاں بحق کان کنوں کی میتیں ان کے آبائی علاقے سوات روانہ کر دی گئیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ حکام نے فوری طور پر کسی بڑی تفتیشی رپورٹ یا ذمہ داری کے تعین کا اعلان نہیں کیا، اس لیے حادثے کی حتمی تکنیکی وجوہات کے بارے میں مزید سرکاری جانچ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں میتھین گیس کے اخراج اور جمع ہونے کے واقعات پہلے بھی جان لیوا حادثات کا سبب بنتے رہے ہیں۔ کان کن تنظیمیں طویل عرصے سے حفاظتی سازوسامان، گیس مانیٹرنگ، وینٹی لیشن اور معائنہ کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کرتی آئی ہیں۔ گزشتہ مہینے بھی صوبے میں ایک اور کوئلہ کان کے دھماکے میں مزدوروں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں، جس کے بعد کانوں میں حفاظتی نگرانی پر دوبارہ سوالات اٹھے تھے۔

شاہرگ کے تازہ واقعے نے ایک بار پھر کان کنی کے شعبے میں حفاظتی معیار اور ہنگامی ریسکیو صلاحیت کی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔ صوبائی حکام کی جانب سے اگر کسی باضابطہ انکوائری، حفاظتی معائنہ یا متعلقہ کان کی سرگرمیوں سے متعلق نیا حکم جاری کیا جاتا ہے تو حادثے کی ذمہ داری اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آ سکیں گی۔