لاہور: پنجاب حکومت نے سکیورٹی اداروں کی جانب سے ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے بارے میں موصول ہونے والے الرٹس کے بعد صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے 17 ستمبر تک مختلف نوعیت کے عوامی اجتماعات اور جلوسوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی 13 ستمبر سے 17 ستمبر 2026 تک مؤثر رہے گی اور اس کا مقصد امن و امان، جان و مال کے تحفظ اور حساس مقامات پر ممکنہ خطرات کو کم کرنا بتایا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں سے ایسی رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن میں صوبے میں عوامی امن، معمولات زندگی اور شہریوں کی سلامتی کو لاحق سنجیدہ خطرات کی نشاندہی کی گئی۔ حکام کے مطابق بعض الرٹس میں بڑے اجتماعات کو ممکنہ ہدف بنانے، خودکش حملوں، گاڑیوں میں نصب دھماکا خیز مواد اور ٹارگٹ کلنگ جیسے خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ خدشات حکومتی مؤقف اور سکیورٹی اداروں کی رپورٹس پر مبنی ہیں؛ کسی مخصوص منصوبہ بند حملے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

پابندی کے تحت عوامی مقامات، سڑکوں، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماعات، جلوسوں اور مظاہروں پر قدغن ہوگی۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے غیر قانونی اجتماع کے لیے لوگوں کو اکسانے پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ اس کے علاوہ عوامی مقامات پر اسلحہ لے جانے، دکھانے یا لہرانے کی ممانعت ہوگی، تاہم سرکاری فرائض انجام دینے والے قانون نافذ کرنے والے، انٹیلی جنس اور سکیورٹی اہلکار اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

حکومتی حکم کے مطابق شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں میں مذہبی عبادات، عدالتوں کی کارروائی اور سرکاری تقریبات اس عمومی پابندی سے مستثنیٰ رکھی گئی ہیں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ فوری احتیاطی اقدامات کی سفارش پنجاب پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، اسپیشل برانچ اور مختلف ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی تھی۔

یہ پابندی ایسے وقت میں عائد کی گئی ہے جب مختلف سیاسی و مذہبی جماعتیں احتجاجی سرگرمیوں اور مارچوں کے اعلانات کر رہی ہیں۔ تاہم سرکاری نوٹیفکیشن میں بنیادی جواز سکیورٹی خطرات اور عوامی تحفظ کو قرار دیا گیا ہے۔ پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو حکم پر عمل درآمد کی ذمہ داری دی گئی ہے۔