ہرنائی: بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے شاہرگ علاقے میں ایک کوئلہ کان کے اندر میتھین گیس جمع ہونے کے بعد دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں کم از کم چار کان کن جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔ چیف مائنز انسپکٹر عاطف علی کے مطابق حادثہ اتوار 13 ستمبر 2026 کو پیش آیا اور ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کان کے اندر میتھین گیس کا ارتکاز دھماکے کا سبب بنا۔
حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے چاروں کان کنوں کی لاشیں اور دونوں زخمی مزدور متاثرہ کان سے نکال لیے گئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہرنائی سے کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ ریسکیو کارروائی کے دوران دو امدادی کارکن بھی کان کے اندر پھنس گئے تھے، تاہم انہیں بعد میں بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ چیف مائنز انسپکٹر نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے تمام مزدور خیبر پختونخوا کے ضلع دیر سے تعلق رکھتے تھے۔
کوئلہ کانوں میں میتھین گیس ایک سنگین حفاظتی خطرہ سمجھی جاتی ہے کیونکہ محدود اور بند جگہوں میں اس کا ارتکاز معمولی چنگاری سے بھی دھماکے کا باعث بن سکتا ہے۔ بلوچستان میں کان کنی کے حادثات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں اور ان واقعات کے بعد حفاظتی انتظامات، وینٹی لیشن، گیس مانیٹرنگ اور ہنگامی ردعمل کے نظام پر سوال اٹھتے ہیں۔ موجودہ واقعے میں حکام نے فوری طور پر دھماکے کی بنیادی وجہ میتھین گیس بتائی، تاہم کسی تفصیلی تفتیش یا ذمہ داری کے تعین سے متعلق مزید معلومات سامنے نہیں آئیں۔
حالیہ مہینوں میں بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں متعدد مہلک واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ جولائی میں سورینج کے علاقے میں ایک کان کے منہدم ہونے کے واقعے میں درجنوں کان کن ہلاک ہوئے تھے، جس کے بارے میں بھی میتھین گیس کے دھماکے کو ممکنہ وجہ قرار دیا گیا تھا۔ ایسے واقعات نے صوبے میں کان کنوں کی حفاظت کے لیے ضابطوں پر عمل درآمد اور ریسکیو صلاحیت بڑھانے کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے۔
شاہرگ کا حادثہ ایک بار پھر اس خطرے کی یاد دہانی ہے جس کا سامنا زیرِ زمین کانوں میں کام کرنے والے مزدور روزانہ کرتے ہیں۔ متعلقہ حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ حادثے کی تکنیکی وجوہات، حفاظتی پروٹوکول کی پابندی اور کان کے وینٹی لیشن نظام کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ آئندہ ایسے واقعات کے امکانات کم کیے جا سکیں۔




