پشاور: حسن خیل پولیس اسٹیشن پر ایک کواڈ کاپٹر کے ذریعے دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد گرایا گیا، تاہم عمارت کی چھت پر نصب حفاظتی اینٹی ڈرون جال نے اسے پولیس اسٹیشن تک پہنچنے سے روک دیا۔ پولیس کے مطابق واقعے میں عمارت اور اہلکار محفوظ رہے اور دھماکا خیز مواد مطلوبہ ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔
صدر ڈویژن کے ایس پی فدا حسین نے ڈان کو بتایا کہ استعمال کیا گیا آئی ای ڈی مقامی طور پر تیار کیا گیا تھا اور اسے کواڈ کاپٹر کے ذریعے گرایا گیا۔ ان کے مطابق پولیس اسٹیشن کی چھت کے اوپر نصب جال نے ڈیوائس کو عمارت تک پہنچنے سے روکا، جس سے ممکنہ جانی اور مالی نقصان ٹل گیا۔
پولیس افسر کے مطابق حملہ آوروں نے ایک انرجی ڈرنک کی بوتل میں دھماکا خیز مواد، نٹ اور بولٹ بھر کر دیسی ساختہ بم تیار کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اگر یہ ڈیوائس عمارت پر براہ راست گرتی تو نقصان کا باعث بن سکتی تھی۔ واقعے میں استعمال ہونے والی ڈیوائس کی نوعیت اور اسے پہنچانے کے طریقہ کار سے پولیس تنصیبات کے خلاف چھوٹے تجارتی ڈرونز کے ممکنہ استعمال کا خطرہ بھی نمایاں ہوتا ہے۔
ایس پی فدا حسین نے بتایا کہ ان کے دائرہ اختیار میں موجود پولیس تنصیبات، جن میں بڈھ بیر، متنی اور حسن خیل کے پولیس اسٹیشن اور چوکیاں شامل ہیں، پر اسی نوعیت کے حفاظتی جال نصب کیے گئے ہیں۔ یہ اقدام ڈرون یا کواڈ کاپٹر سے اوپر کی سمت سے گرائے جانے والے دھماکا خیز مواد کو عمارت کی چھت تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
حسن خیل پولیس اسٹیشن پشاور شہر سے تقریباً 86 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور یہ علاقہ پشاور کے علاوہ کوہاٹ اور نوشہرہ اضلاع کی سرحدوں کے قریب ہے۔ پولیس کے مطابق اس تنصیب کو ماضی میں بھی حملوں کے خطرات کا سامنا رہا ہے، جس کی وجہ سے اضافی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔
حکام نے فوری طور پر کسی فرد یا تنظیم کی شناخت یا گرفتاری کا اعلان نہیں کیا۔ اس لیے حملے کی ذمہ داری کسی مخصوص گروہ سے منسوب نہیں کی جا سکتی جب تک تفتیشی ادارے شواہد کی بنیاد پر باضابطہ نتیجہ جاری نہ کریں۔ موجودہ تصدیق شدہ معلومات یہ ہیں کہ کواڈ کاپٹر سے آئی ای ڈی گرائی گئی اور پہلے سے نصب حفاظتی جال نے اسے پولیس اسٹیشن کی چھت تک پہنچنے سے روک دیا۔ واقعے کی مزید تفتیش میں ڈرون کے آپریٹر، پرواز کے مقام اور دھماکا خیز ڈیوائس کے اجزا سے متعلق شواہد اہم ہوں گے۔

