اسلام آباد: وفاقی وزارت توانائی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی صارف شکایات سے نمٹنے کی کارکردگی کی نگرانی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی زیر صدارت ہیلپ لائن 118 کسٹمر کیئر سروس کے جائزہ اجلاس میں بتایا گیا کہ اگست 2026 کے دوران تقریباً 16 لاکھ 40 ہزار شکایات درج ہوئیں۔
سرکاری اعداد کے مطابق ان شکایات میں سے 99.18 فیصد کو حل شدہ قرار دیا گیا۔ حل ہونے والی شکایات میں 94.95 فیصد مقررہ وقت کے اندر نمٹائی گئیں جبکہ 5.05 فیصد کے حل میں مقررہ مدت سے زیادہ وقت لگا۔ وزیر توانائی نے ہدایت کی کہ نیپرا کی جانب سے مختلف اقسام کی شکایات کے لیے مقرر کردہ ٹائم لائنز پر سختی سے عمل کیا جائے۔
اجلاس میں تمام ڈسکوز کی الگ الگ کارکردگی، موصول ہونے والی شکایات، بروقت حل اور تاخیر سے نمٹائے گئے کیسز کا جائزہ لیا گیا۔ بجلی کی بندش، لائن فالٹ اور وولٹیج سے متعلق مسائل مجموعی شکایات کا تقریباً 77 فیصد رہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ صارفین کی بڑی تعداد بنیادی سپلائی اور نیٹ ورک مسائل کے لیے ہیلپ لائن استعمال کر رہی ہے۔
ہیلپ لائن 118 صارفین کو کسی درمیانی نمائندے کے بغیر بجلی سے متعلق مسئلہ درج کرنے، شکایت کی پیش رفت معلوم کرنے اور حل کے بعد فیڈبیک حاصل کرنے کی سہولت دیتی ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق سروس سات زبانوں میں شکایت درج کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے اور مقررہ وقت میں مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں شکایت خودکار طور پر متعلقہ اعلیٰ سطح تک منتقل ہو جاتی ہے۔
اویس لغاری نے تمام تقسیم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز کو ہدایت کی کہ شکایات کے بروقت حل کی مسلسل نگرانی کریں اور مقررہ مدت کی خلاف ورزی کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی یقینی بنائیں۔ کیسکو کے چیف ایگزیکٹو نے اجلاس کو بتایا کہ بروقت شکایات حل نہ کرنے میں غفلت پر 38 ایس ڈی اوز کو شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
99.18 فیصد حل کی شرح وزارت توانائی کی فراہم کردہ انتظامی رپورٹنگ پر مبنی ہے۔ صارف تجربے اور حل کے معیار کا مکمل اندازہ صرف بند کیسز کی تعداد سے نہیں بلکہ دوبارہ شکایات، مسئلے کے مستقل حل اور آزادانہ نگرانی سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہیلپ لائن کو زیادہ شفاف اور قابل اعتماد پلیٹ فارم بنانے اور ڈسکوز کی جواب دہی بہتر کرنے کے لیے موجودہ مانیٹرنگ نظام کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔




