اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 85 پیسے فی لیٹر اضافہ کرتے ہوئے اسے 400.67 روپے فی لیٹر مقرر کر دیا ہے، جبکہ پٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ 377.91 روپے فی لیٹر برقرار رہے گی۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 30 اکتوبر سے ہوگا۔
حالیہ ردوبدل کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل ایک بار پھر 400 روپے فی لیٹر کی سطح سے اوپر چلا گیا ہے۔ سرکاری اعداد کے مطابق حکومت پٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ قیمتوں میں یہ تبدیلی ایسے وقت ہوئی ہے جب عالمی توانائی منڈی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پاکستان میں ایندھن کی لاگت مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ڈان کے مطابق رواں ہفتے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں پیٹرولیم لیوی ختم کرکے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ حکومت اور جماعت اسلامی نے موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے جاری ایندھن ریلیف اسکیم کو وسعت دینے کے امکانات پر غور کے لیے مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا۔ حافظ نعیم نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر نومبر کے وسط تک نمایاں ریلیف نہ دیا گیا تو ان کی جماعت اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی۔
حکام حالیہ عرصے میں ایندھن کی دستیابی سے متعلق خدشات کی بھی تردید کرتے رہے ہیں۔ سینیٹ میں اس موضوع پر سوالات اٹھائے گئے، تاہم وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا تھا کہ ملک میں سپلائی کا مسئلہ نہیں ہے۔ پیٹرولیم ڈیلرز نے بھی صارفین سے غیر ضروری ذخیرہ اندوزی یا گھبراہٹ میں خریداری سے گریز کی اپیل کی تھی تاکہ مارکیٹ میں مصنوعی دباؤ پیدا نہ ہو۔
ڈیزل کی موجودہ قیمت اپریل میں ریکارڈ کی گئی 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند سطح سے کم ہے۔ اسی طرح پٹرول بھی اپریل کی 458.41 روپے فی لیٹر کی بلند سطح سے نیچے ہے۔ حکومت نے عالمی منڈی میں تیز اتار چڑھاؤ کے تناظر میں جولائی سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ بنیاد پر طے کرنے کا طریقہ اپنایا تھا۔
ایندھن کی بلند قیمتوں کے باعث حکومت نے کفایت شعاری کے بعض اقدامات بھی دوبارہ نافذ کیے ہیں، جن میں سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی مختص مقدار میں عارضی کمی اور بعض کاروباری اوقات سے متعلق پابندیاں شامل ہیں۔ نئی قیمتوں کا اثر بالخصوص مال برداری، زرعی نقل و حمل اور ڈیزل استعمال کرنے والے دیگر شعبوں کی لاگت پر پڑ سکتا ہے، تاہم اس کے حتمی معاشی اثرات متعلقہ شعبوں کی قیمتوں اور طلب کے ردعمل پر منحصر ہوں گے۔
