اسلام آباد: حکومت نے 30 اکتوبر 2026 کے لیے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی خوردہ قیمت میں 85 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 400.67 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ پٹرول کی قیمت میں اس روز کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اسے 377.91 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھا گیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں یومیہ قیمتوں کے موجودہ طریقہ کار کے تحت مقرر کی گئی ہیں۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کا 400 روپے فی لیٹر کی سطح سے اوپر جانا ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبوں کے لیے اہم پیش رفت ہے کیونکہ یہ ایندھن بھاری گاڑیوں، مال برداری، بسوں، زرعی مشینری اور معیشت کے متعدد پیداواری شعبوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں نسبتاً چھوٹی روزانہ تبدیلی بھی مسلسل اضافوں کی صورت میں مال برداری اور پیداواری اخراجات پر اثر ڈال سکتی ہے۔
پٹرول کی قیمت 377.91 روپے فی لیٹر پر برقرار رہنے سے موٹر سائیکلوں، کاروں اور دیگر پٹرول استعمال کرنے والی گاڑیوں کے صارفین کے لیے فوری اضافی بوجھ نہیں آیا۔ تاہم دونوں بڑی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی خام تیل اور تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں، شرح مبادلہ، ٹیکسوں اور سرکاری لیویز سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوتی ہیں۔
پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں یومیہ طریقہ کار اختیار کیا ہے، جس کے باعث بین الاقوامی منڈی اور دیگر متعلقہ عوامل میں تبدیلی کا اثر زیادہ باقاعدگی سے مقامی نرخوں میں منتقل ہوسکتا ہے۔ اس نظام میں صارفین اور کاروباروں کے لیے قیمتوں کی سمت کو مسلسل دیکھنا زیادہ اہم ہوگیا ہے کیونکہ روایتی طویل وقفوں کے بجائے نرخ مختصر مدت میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 85 پیسے کا تازہ اضافہ بذات خود محدود ہے، لیکن 400.67 روپے فی لیٹر کی نئی سطح اس لیے نمایاں ہے کہ ڈیزل ملکی سپلائی چین کا بنیادی ایندھن ہے۔ ٹرک اور دیگر کمرشل گاڑیاں اشیائے خورونوش، صنعتی خام مال اور تیار مصنوعات کی نقل و حمل میں ڈیزل استعمال کرتی ہیں، اس لیے ایندھن کے نرخ کاروباری لاگت کے اہم اجزا میں شمار ہوتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے جاری قیمت کا نوٹیفکیشن موجودہ دن کے لیے قابل اطلاق نرخ طے کرتا ہے۔ آئندہ قیمتیں یومیہ نظام کے تحت متعلقہ عالمی اور مقامی عوامل کے مطابق دوبارہ تبدیل ہوسکتی ہیں، اس لیے موجودہ اضافہ کسی طویل مدت کے مقررہ نرخ کی ضمانت نہیں بلکہ 30 اکتوبر کے لیے نافذ سرکاری قیمت ہے۔
