کراچی: لکی سیمنٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے کراچی پلانٹ میں سالانہ 3.2 ملین ٹن پیداواری صلاحیت کی براؤن فیلڈ توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ کمپنی کی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی اطلاع کے مطابق منصوبے کی تجارتی پیداوار دسمبر 2027 تک شروع ہونے کی توقع ہے اور اس کے بعد پاکستان میں کمپنی کی مجموعی نصب شدہ سیمنٹ صلاحیت 18.8 ملین ٹن سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق کراچی میں منظور شدہ منصوبے وہاں زیر تنصیب سیمنٹ گرائنڈنگ سہولت کے ساتھ مربوط کیے جائیں گے۔ توسیع مکمل ہونے پر کراچی پلانٹ کی نصب شدہ سیمنٹ صلاحیت 8.55 ملین ٹن سالانہ ہونے کی توقع ہے۔ پیزو پلانٹ کی موجودہ صلاحیت کو شامل کرنے کے بعد پاکستان میں مجموعی صلاحیت 18.8 ملین ٹن سالانہ بنے گی۔
لکی سیمنٹ نے توسیع کی وجہ مقامی طلب اور سیمنٹ و کلنکر کی بڑھتی برآمدی مانگ کو قرار دیا ہے۔ کمپنی نے اسی فیصلے کے ساتھ توانائی کے متعدد منصوبوں کی بھی منظوری دی، جن میں کراچی پلانٹ پر مجموعی 22.5 میگاواٹ اضافی ونڈ ٹربائنز اور 10 میگاواٹ ویسٹ ہیٹ ریکوری پلانٹ شامل ہیں۔ پیزو میں 15 میگاواٹ سولر پلانٹ اور 15 میگاواٹ بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم لگانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ان توانائی منصوبوں کی تکمیل کے بعد سیمنٹ آپریشنز کی تقریباً 60 فیصد توانائی ضروریات قابل تجدید ذرائع سے پوری ہونے کی توقع ہے، جس میں کراچی کی نئی توسیع کی ضرورت بھی شامل ہوگی۔ توانائی منصوبوں کی تکمیل مالی سال 2027 کی چوتھی سہ ماہی سے مالی سال 2028 کی دوسری سہ ماہی کے درمیان طے کی گئی ہے۔
کراچی توسیع اور جمہوریہ کانگو میں جاری منصوبے کی تکمیل کے بعد لکی سیمنٹ کی پاکستان اور بیرون ملک مجموعی پیداواری صلاحیت 26.65 ملین ٹن سالانہ تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ یہ تمام اعداد کمپنی کے منصوبہ جاتی تخمینے ہیں؛ حتمی صلاحیت اور تجارتی آغاز تعمیر، تنصیب اور کمیشننگ کی بروقت تکمیل سے مشروط رہیں گے۔
