ہمالیہ اور ہندوکش کے گلیشیئرز سے متعلق نئی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ خطہ ایک اہم موسمیاتی ’ٹپنگ پوائنٹ‘ کے قریب پہنچ رہا ہے، کیونکہ برفانی ذخائر ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ دنیا نیوز اور جیو نیوز نے رائٹرز کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ستمبر میں جاری ہونے والی تحقیق کے مطابق وسط صدی تک خطہ ’پیک واٹر‘ کے مرحلے کے قریب پہنچ سکتا ہے، یعنی وہ نقطہ جب گلیشیئر پگھلنے سے دریاؤں میں بڑھتا ہوا پانی بلند ترین سطح پر پہنچ کر بعد میں کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

تحقیق Systemiq، Integrated Mountain Initiative، International Centre for Integrated Mountain Development اور بھارت کے جی بی پنت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہمالین انوائرمنٹ کی شراکت سے تیار کی گئی۔ اس میں بتایا گیا کہ ہندوکش ہمالیہ کے وسیع پہاڑی سلسلے میں اندازاً 40 ہزار گلیشیئر موجود ہیں، لیکن زمینی سطح پر باقاعدہ نگرانی صرف 21 گلیشیئرز کی ہو رہی ہے۔ تحقیق کاروں کے مطابق ڈیٹا کی یہ کمی خطرات کی درست پیش گوئی، پانی کے منصوبہ بند استعمال اور برفانی جھیلوں کی نگرانی کو مشکل بناتی ہے۔

گلیشیئر پیچھے ہٹنے کے ساتھ ایسی جھیلیں بڑھ رہی ہیں جو ڈھیلی چٹانوں اور برف سے بننے والی قدرتی رکاوٹوں کے پیچھے جمع ہوتی ہیں۔ تحقیق میں بھارت میں تقریباً 200 برفانی جھیلوں کو زیادہ خطرے والا قرار دیا گیا، جن میں 56 کو ’انتہائی زیادہ خطرے‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ ایسی جھیلوں کے اچانک پھٹنے سے نیچے آباد وادیوں میں شدید سیلاب آ سکتا ہے، اس لیے تحقیق میں نگرانی، پیشگی انتباہی نظام اور مقامی آبادیوں کی تیاری بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اگست کے آخر میں نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب ایک گلیشیئر کے انہدام کے بعد بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب آیا۔ رائٹرز کے مطابق اس آفت میں نیپال اور چین کے تبت خطے میں کم از کم 1,300 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی جبکہ ہزاروں افراد لاپتا ہوئے۔ کسی ایک واقعے کو صرف ایک تحقیق کی بنیاد پر براہِ راست طویل مدتی موسمیاتی رجحان کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم ماہرین اس حادثے کو تیزی سے بدلتے برفانی ماحول میں بڑھتے خطرات کی مثال کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ہمالیائی خطہ بھارت کی معیشت، زراعت، پن بجلی، آبپاشی اور شہری پانی کے نظام کے لیے انتہائی اہم ہے اور لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد براہِ راست یا بالواسطہ ان دریاؤں پر منحصر ہیں۔ ’پیک واٹر‘ کے بعد مسلسل بہاؤ میں کمی خشک موسموں میں پانی کی دستیابی، خوراک کی پیداوار اور توانائی کے منصوبوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔ تحقیق کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ گلیشیئر مانیٹرنگ، خطرناک جھیلوں کی نقشہ بندی، ہنگامی منصوبہ بندی اور طویل مدتی پانی کے انتظام میں فوری سرمایہ کاری کے بغیر موسمیاتی اثرات کا انسانی اور معاشی بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔