ہانگ کانگ/نئی دہلی: ہمالیائی خطہ تیزی سے ایسے ماحولیاتی اور آبی ’ٹِپنگ پوائنٹس‘ کے قریب پہنچ رہا ہے جہاں گلیشیئرز کا سکڑاؤ، غیر مستحکم برفانی جھیلیں اور بدلتے دریائی بہاؤ پانی کی سلامتی اور پہاڑی آبادیوں کے لیے بڑے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ پائیداری سے متعلق مشاورتی ادارے Systemiq کی ستمبر 2026 میں جاری کردہ رپورٹ ’Prosperous and Resilient Himalayas‘ میں کہا گیا ہے کہ خطے میں موسمیاتی خطرات کے مقابل نئی سرمایہ کاری اور موافقت کی فوری ضرورت ہے۔

رائٹرز کے مطابق ہمالیائی گلیشیئرز کے برفانی حجم میں کمی حالیہ دہائیوں میں تیز ہوئی ہے، جبکہ ہندوکش ہمالیہ میں اندازاً 40,000 گلیشیئرز کے مقابلے میں صرف 21 کی زمینی سطح پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ یہ وسیع ڈیٹا خلا اس خطے میں پانی، گلیشیئر جھیلوں اور اچانک سیلاب کے خطرات کا بروقت اندازہ لگانے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ہندوکش ہمالیہ افغانستان سے میانمار تک آٹھ ممالک میں پھیلا ہوا ہے اور پاکستان بھی اس خطے کا حصہ ہے۔

رپورٹ خاص طور پر بھارتی ہمالیہ پر مرکوز ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں تقریباً 200 برفانی جھیلیں بلند خطرے کی درجہ بندی میں آتی ہیں، جن میں 56 کو ’انتہائی بلند خطرہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ گلیشیئر کے پیچھے ہٹنے سے بننے والی بعض جھیلیں ڈھیلی چٹانوں اور برفانی ملبے سے بند ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اچانک بند ٹوٹنے اور نیچے آباد وادیوں میں سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

Systemiq کے مطابق ہمالیائی خطہ بھارت کی مجموعی قومی پیداوار کے 20 فیصد سے زیادہ حصے کو سہارا دیتا ہے، اس لیے پہاڑی نظام کا تحفظ صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ معاشی انفراسٹرکچر کا مسئلہ بھی ہے۔ رپورٹ نے دس اہم تبدیلیوں کی تجویز دی ہے، جن میں آبی ذخائر اور گلیشیئر نگرانی بہتر بنانا، قدرتی نظاموں کا تحفظ، خطرات کے مطابق منصوبہ بندی اور مقامی معیشتوں کو زیادہ لچک دار بنانا شامل ہے۔ ادارے کا اندازہ ہے کہ موزوں سرمایہ کاری سے طویل مدت میں نمایاں معاشی واپسی حاصل ہو سکتی ہے، تاہم یہ تخمینہ مخصوص ماڈلنگ اور مفروضوں پر مبنی ہے۔

’پیک واٹر‘ سے مراد وہ مرحلہ ہے جب گلیشیئر پگھلنے سے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ کچھ عرصے تک بڑھنے کے بعد اپنی بلند ترین حد پر پہنچتا ہے اور پھر گلیشیئر کے ذخیرے کم ہونے کے باعث طویل مدت میں گھٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ ICIMOD کی سابقہ تحقیق بھی خبردار کر چکی ہے کہ وسط صدی تک ہندوکش ہمالیہ کے متعدد دریائی حوض اس مرحلے کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ اس تبدیلی کا اثر آبپاشی، پن بجلی، شہری پانی، زراعت اور سرحد پار دریاؤں کے نظم و نسق پر پڑ سکتا ہے۔

نئی رپورٹ اگست 2026 میں نیپال-تبت سرحدی علاقے میں گلیشیئر سے جڑی تباہ کن آفت کے بعد سامنے آئی ہے، جہاں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور لاپتا افراد کی اطلاعات آئیں۔ رپورٹ کے مصنفین نے واضح کیا ہے کہ تحقیق اس آفت سے پہلے شروع ہو چکی تھی اور موجودہ مختصر ورژن مکمل رپورٹ سے قبل جاری کیا گیا ہے۔ کسی ایک آفت کو براہ راست موسمیاتی تبدیلی سے منسوب کرنے کے لیے الگ سائنسی attribution درکار ہوتا ہے، تاہم تیز گلیشیئر پگھلاؤ اور غیر مستحکم جھیلیں مجموعی خطرے میں اضافہ کرتی ہیں۔

پاکستان کے شمالی علاقے بھی ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے برفانی نظام سے منسلک ہیں، اس لیے علاقائی نگرانی، ڈیٹا شیئرنگ اور پیشگی وارننگ کے بہتر نظام پاکستان سمیت پورے خطے کے لیے اہم ہیں۔ رپورٹ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ گلیشیئرز اور پانی کے نظام میں تبدیلی کو دور کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے موجودہ اقتصادی اور آفات سے بچاؤ کی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے۔