کٹھمنڈو: نیپال نے گزشتہ ماہ آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد بحالی اور تعمیر نو کے لیے تقریباً 4.78 ارب ڈالر درکار ہونے کا ابتدائی سرکاری تخمینہ جاری کیا ہے۔ Dawn میں شائع ہونے والی اے ایف پی رپورٹ کے مطابق نیپالی وزارت خارجہ کے ترجمان لوک بہادر چھیتری نے بتایا کہ مجموعی رقم میں تقریباً 57.67 ملین ڈالر اگلے چھ ماہ کی قلیل مدتی بحالی اور تعمیر نو کے لیے، جبکہ تقریباً 4.71 ارب ڈالر طویل مدتی کاموں کے لیے درکار ہوں گے۔
26 اگست کو چین اور نیپال کی سرحد کے قریب پہاڑی اور برفانی علاقے میں تباہ کن شکست و ریخت کے بعد اچانک آنے والے سیلاب نے نیپال کے متعدد علاقوں کو شدید متاثر کیا۔ حکام کے مطابق اس آفت میں 1,400 سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں لاپتہ ہوئے۔ ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کے اعداد جاری تلاش، شناخت اور سرکاری اپ ڈیٹس کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں، اس لیے انہیں اس وقت دستیاب حکومتی تخمینوں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
نیپال کی حکومت کا کہنا ہے کہ سڑکوں، پلوں، گھروں، بجلی و پانی کے نظام اور مقامی معاشی سرگرمیوں کو پہنچنے والے نقصان نے بحالی کو کئی سالہ منصوبہ بنا دیا ہے۔ قلیل مدتی اخراجات میں ہنگامی مرمت، متاثرہ خاندانوں کی مدد اور بنیادی خدمات کی بحالی شامل ہے، جبکہ طویل مدتی رقم زیادہ پائیدار انفراسٹرکچر اور آفات کے مقابلے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے درکار ہوگی۔
وزیراعظم بلندر شاہ نے کہا ہے کہ نیپال موسمیاتی تبدیلی سے منسلک بار بار آنے والی آفات اور ان کے معاشی و انسانی اثرات کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کرے گا۔ وزارت خارجہ کے مطابق وہ رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران اس مسئلے کو اٹھانے والے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کم اخراج کرنے والے ہمالیائی ملک کو ایسے موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی بین الاقوامی مالی اور تکنیکی تعاون ضروری ہے۔
نیپال کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارش، برفانی جھیلوں، لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئر سے منسلک خطرات پہلے ہی آفات کے انتظام کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ تاہم کسی ایک واقعے کو مکمل طور پر موسمیاتی تبدیلی سے منسوب کرنے کے لیے مخصوص سائنسی attribution studies درکار ہوتی ہیں۔ نیپالی حکام نے موجودہ آفت کو وسیع تر موسمیاتی خطرات کے تناظر میں پیش کیا ہے، مگر تعمیر نو کے فوری تخمینے بنیادی طور پر زمینی نقصان اور بحالی کی ضرورت پر مبنی ہیں۔
4.78 ارب ڈالر کا تخمینہ حتمی بین الاقوامی امدادی پیکیج نہیں بلکہ نیپال کی موجودہ ضرورت کا سرکاری اندازہ ہے۔ آئندہ damage assessments، منصوبوں کی ترجیحات اور donor commitments کے بعد رقم میں تبدیلی ممکن ہے۔ حکومت کے لیے اگلا مرحلہ متاثرہ علاقوں میں فوری بحالی کے ساتھ طویل مدتی تعمیر نو کے لیے مالی وسائل جمع کرنا اور انفراسٹرکچر کو مستقبل کے سیلاب و پہاڑی آفات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنانا ہوگا۔
