موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آفات کے بارے میں پالیسی سازی عموماً درجہ حرارت، اخراج، مالی نقصان اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی پر مرکوز رہتی ہے، لیکن ایک نئے تحقیقی مقالے نے خبردار کیا ہے کہ انسانی ذہنی صحت پر پڑنے والے اثرات کو بھی ماحول سے متعلق معاہدوں اور قومی منصوبہ بندی کا بنیادی حصہ بنایا جانا چاہیے۔
تحقیق کے مطابق سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی، نقل مکانی اور روزگار کے نقصان کے نتائج صرف جسمانی یا مالی نہیں ہوتے۔ متاثرہ افراد میں بے چینی، افسردگی، صدمہ اور طویل المدت ذہنی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ بچوں کے لیے یہ اثرات زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں کیونکہ تعلیم کا تعطل، خاندانوں کی جدائی اور سماجی روابط کا خاتمہ ان کی نشوونما کو متاثر کرتا ہے۔
نیچر میں شائع ہونے والے مقالے کی قیادت کلینیکل سائیکالوجسٹ اور آبادیاتی صحت کی ماہر مناسی کمار نے کی۔ مصنفین کا مؤقف ہے کہ ذہنی اور نفسیاتی فلاح کو موسمیاتی موافقت، آفات کے خطرات میں کمی اور نقصانات کے تخمینے میں ثانوی پہلو کے بجائے ایک واضح پالیسی ہدف بنایا جائے۔
مقالے میں پیرس معاہدے، حیاتیاتی تنوع کے کنونشن اور زہریلے کیمیکلز سے متعلق اسٹاک ہوم کنونشن سمیت عالمی ماحولیاتی معاہدوں کا جائزہ لیا گیا۔ محققین کے مطابق یہ معاہدے اخراج میں کمی، قدرتی نظاموں کے تحفظ اور خطرناک مادوں پر قابو پانے کے لیے بنائے گئے، مگر انسانی فلاح اور ذہنی صحت کی پیمائش ان کے بنیادی ڈھانچے میں پوری طرح شامل نہیں۔
تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ ماحول میں جمع ہونے والی دھاتیں اور آلودہ مادے جسمانی اعضا کے ساتھ ذہنی صحت اور بچوں کی دماغی نشوونما پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح زمین، حیاتیاتی تنوع اور روایتی طرز زندگی سے جڑی برادریوں کے لیے ماحولیاتی نقصان ثقافتی شناخت اور معاشرتی وابستگی کے کھونے کا سبب بن سکتا ہے۔
مصنفین نے ماحولیات کی حکمرانی کو بیماری پیدا ہونے سے پہلے تحفظ فراہم کرنے والی ذہنی صحت پالیسی کے طور پر دیکھنے کی تجویز دی ہے۔ اس نقطہ نظر میں خطرناک زرعی ادویات اور کیمیائی مادوں کی نگرانی، پارے کے اخراج میں کمی اور آفات سے نمٹنے کے منصوبوں میں نفسیاتی و سماجی معاونت کی پیشگی شمولیت شامل ہے۔
مقالے میں ترجیحات کا درجہ وار فریم ورک بھی پیش کیا گیا ہے۔ خطرناک کیمیکلز اور فضلے سے متعلق معاہدوں کو بلند ترجیح دی گئی ہے کیونکہ ان کے ذہنی صحت پر اثرات نسبتاً براہ راست اور قابل پیمائش ہیں۔ موسمیاتی اور حیاتیاتی تنوع کے معاہدے اگلی سطح پر آتے ہیں، جہاں آفات، خوراک کی کمی، نقل مکانی اور ثقافتی نقصان کے ذریعے وسیع اثرات سامنے آتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے لازماً نئے اعدادوشمار کے نظام بنانے کی ضرورت نہیں۔ خودکشی کی شرح، بچوں کی نشوونما، آفات کے بعد ذہنی دباؤ، غذائی عدم تحفظ اور نقل مکانی جیسے اشاریے پہلے سے جمع کیے جاتے ہیں؛ اصل ضرورت انہیں ماحول سے متعلق پالیسیوں کے نفاذ اور کامیابی کی پیمائش سے مربوط کرنے کی ہے۔
پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ملک میں یہ بحث خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ سیلاب، گرمی کی لہروں اور نقل مکانی کے بعد بحالی کے منصوبوں میں ذہنی صحت کی خدمات، سماجی معاونت اور کمزور طبقات کی ضروریات شامل کرنے سے متاثرہ خاندانوں کی طویل المدت بحالی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔




