اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ہواوے سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں تحقیق و ترقی کے ایک مرکز کے قیام کے امکانات تلاش کرے اور مقامی ٹیکنالوجی افرادی قوت میں سرمایہ کاری، علم کی منتقلی اور رہنمائی کے پروگرام مزید وسعت دے۔ یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں ہواوے کے گلوبل سروس سینٹر کے دورے کے دوران کہی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیر آئی ٹی کو سینٹر کے آپریشنز پر بریفنگ دی گئی اور انہوں نے ان پاکستانی انجینئرز اور ٹیکنالوجی پروفیشنلز سے ملاقات کی جو بین الاقوامی صارفین کے لیے آئی سی ٹی آپریشنز، ریموٹ ٹیکنیکل سپورٹ، نیٹ ورک آپریشنز اور سروس اشورنس سمیت مختلف خدمات فراہم کرتے ہیں۔ شزا فاطمہ نے اس ماڈل کو پاکستان سے ڈیجیٹل خدمات کی برآمد کے امکانات کی مثال قرار دیا۔
وزیر نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی کو ہنرمند انسانی سرمائے اور عالمی معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے حکومت، صنعت اور جامعات کے درمیان مضبوط تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کے دورۂ چین کے دوران طے پانے والی تربیتی شراکت داری کا حوالہ دیتے ہوئے ہواوے کے اس عزم کو سراہا جس کے تحت 3 لاکھ نوجوان پاکستانیوں کو آئی سی ٹی مہارتوں کی تربیت دینے کا منصوبہ بیان کیا گیا ہے۔
شزا فاطمہ نے کمپنی پر زور دیا کہ وہ موجودہ تربیتی پروگراموں اور آئی سی ٹی اکیڈمیز کے علاوہ پاکستان میں آر اینڈ ڈی سینٹر کے قیام کے امکانات کا بھی جائزہ لے۔ انہوں نے خواتین انجینئرز کی شرکت کو بھی سراہا اور ڈیجیٹل معیشت میں خواتین کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ہواوے پاکستان کے چیف ایگزیکٹو ایتھن سن نے مقامی ٹیکنیکل صلاحیت اور پاکستانی پروفیشنلز کی عالمی ڈیجیٹل معیشت میں شرکت بڑھانے کے لیے کمپنی کے کردار پر بات کی۔
اہم بات یہ ہے کہ دستیاب رپورٹ میں پاکستان میں ہواوے کے نئے آر اینڈ ڈی سینٹر کے قیام کا کوئی حتمی معاہدہ، سرمایہ کاری رقم، مقام یا افتتاحی تاریخ اعلان نہیں کی گئی۔ وفاقی وزیر نے کمپنی کو ایسا مرکز قائم کرنے کے امکانات تلاش کرنے کی دعوت دی ہے، اس لیے اسے فی الحال حکومتی تجویز اور تعاون کی خواہش کے طور پر سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ مکمل شدہ سرمایہ کاری فیصلے کے طور پر۔
پاکستان کی آئی ٹی پالیسی میں سروسز برآمدات، کلاؤڈ، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور ہنرمند افرادی قوت کی ترقی کو اہم شعبے سمجھا جاتا ہے۔ اگر آر اینڈ ڈی مرکز سے متعلق تجویز آگے بڑھتی ہے تو اس کے عملی اثرات کا انحصار کمپنی کے سرمایہ کاری فیصلے، مقامی تحقیقی شراکت داری، ملازمتوں اور ٹیکنالوجی منتقلی کے قابلِ پیمائش منصوبوں پر ہوگا۔

