حیدرآباد میں آٹے کی قیمت دوبارہ بڑھ کر تقریباً 155 سے 160 روپے فی کلو تک پہنچنے پر مقامی چھوٹے تاجروں کی تنظیم نے تشویش ظاہر کی ہے۔ حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے حکومت سے گندم کی دستیابی، سپلائی چین اور مارکیٹ قیمتوں کی نگرانی فوری سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آٹا بنیادی غذائی ضرورت ہے اور قیمت میں تیز اضافہ کم اور متوسط آمدن والے گھرانوں کے بجٹ پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔ انہوں نے ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی اور غیر قانونی طور پر روکے گئے گندم ذخائر مارکیٹ میں لانے کی حمایت کی، تاہم خبردار کیا کہ کارروائی ایسی ہونی چاہیے جس سے اچانک قلت یا سپلائی دباؤ پیدا نہ ہو۔

فلور ملز کے نمائندوں نے بھی گندم کے ذخائر کو مرحلہ وار مارکیٹ میں لانے اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت بیان کی ہے۔ آٹے کی قیمت پر گندم کی اوپن مارکیٹ قیمت، سرکاری ذخائر کے اجرا، نقل و حمل اور ملنگ لاگت سمیت کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔

حیدرآباد انتظامیہ نے جولائی میں بھی گندم اور آٹے کی بڑھتی قیمتوں کے بعد نرخ مقرر کرنے اور اوور چارجنگ کے خلاف کارروائی کی تھی۔ تازہ قیمتیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سپلائی اور مارکیٹ نگرانی کا مسئلہ دوبارہ نمایاں ہوا ہے۔ تاہم 155 سے 160 روپے کی شرح مقامی کاروباری نمائندے کی بتائی ہوئی مارکیٹ سطح ہے اور مختلف علاقوں یا آٹے کی اقسام میں قیمت مختلف ہو سکتی ہے۔

قیمتوں کو پائیدار طور پر مستحکم رکھنے کے لیے صرف چھاپوں کے بجائے گندم کی مجموعی دستیابی، ذخائر، ملوں کو فراہمی اور شفاف قیمت معلومات ضروری ہیں۔ اگر سرکاری ذخائر جاری کیے جائیں تو ان کی مقدار اور وقت مارکیٹ میں قلت پیدا کیے بغیر طے کرنا ہوگا۔ صارفین کے لیے بنیادی مقصد یہ ہے کہ آٹا مناسب قیمت پر مسلسل دستیاب رہے۔