اسلام آباد: انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن، آئی بی سی سی، کے 184ویں فورم نے ملک کے امتحانی نظام میں زیادہ یکسانیت، طالب علم کے ریکارڈ کی قابلِ تصدیق شناخت اور رٹّے کے بجائے تصوراتی فہم کی جانچ کے لیے متعدد فیصلے منظور کیے ہیں۔ دو روزہ اجلاس 3 اور 4 ستمبر 2026 کو مری میں ہوا، جس میں ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈز، فنی تعلیمی بورڈز اور نصاب و درسی کتب کے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
فورم کو بتایا گیا کہ سندھ کے امتحانی بورڈز، وفاقی تعلیمی بورڈ، آزاد جموں و کشمیر بورڈ، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی بورڈ، آغا خان بورڈ اور ضیا الدین بورڈ نئی گریڈنگ پالیسی نافذ کر چکے ہیں، جس میں کم از کم کامیابی کے نمبر 40 فیصد کیے گئے ہیں۔ یہ اطلاع مذکورہ بورڈز کی موجودہ عمل درآمد حالت سے متعلق ہے؛ اجلاس کی خبر میں یہ نہیں کہا گیا کہ ملک کا ہر بورڈ اسی تاریخ سے خودکار طور پر نئی حد پر منتقل ہوگیا ہے۔ باقی جگہ نفاذ کے لیے آگاہی نشستیں اور ورکشاپس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
تعلیمی ریکارڈ کی شناخت اور تصدیق بہتر بنانے کے لیے ایس ایس سی اور ایچ ایس ایس سی سرٹیفکیٹس پر طالب علم کا ب فارم یا قومی شناختی کارڈ نمبر شامل کرنے پر اتفاق ہوا۔ اس اقدام سے ایک جیسے ناموں والے امیدواروں کے ریکارڈ میں فرق، اسناد کی تصدیق اور ڈیجیٹل رسائی آسان بنانے کا ہدف ہے۔ عملی نفاذ میں طالب علم کے ذاتی ڈیٹا کی حفاظت، نمبر کی درست اندراج اور غلطی درست کرنے کا واضح طریقہ بھی ضروری ہوگا۔
فورم نے بورڈ ٹاپرز کے لیے وظائف اور بیرونِ ملک تعلیمی تجربے کے مواقع کی منظوری دی، جبکہ نمایاں کارکردگی والے طلبہ کے لیے موسمِ سرما اور گرما کے کیمپ منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ دستیاب اعلان میں وظائف کی رقم، اہلیت کا مکمل فارمولا، ممالک یا نشستوں کی تعداد نہیں دی گئی؛ یہ تفصیلات بعد کے انتظامی قواعد میں واضح ہونا باقی ہیں۔
اجلاس نے مزید 12 دینی مدارس کو ان کی اسناد کی ایس ایس سی اور ایچ ایس ایس سی کے مساوی حیثیت کے لیے سفارش کی، جس کے بعد مساوات کے فریم ورک میں زیرِ احاطہ اداروں کی تعداد 26 بتائی گئی۔ یہاں اہم فرق یہ ہے کہ فورم نے سفارش کی ہے؛ ہر ادارے کی حتمی مساوات متعلقہ دستاویزات، شرائط اور مجاز منظوری کے مطابق نافذ ہوگی۔
غیر ملکی امتحانی بورڈز کے طلبہ کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ کم از کم دو سائنسی مضامین کامیابی سے مکمل کرنے والوں کو سائنس گروپ کی مساوات دی جا سکے گی۔ اس کے ساتھ تھیوری اور پریکٹیکل امتحانات کا یکساں کیلنڈر بنانے اور عملی امتحانات کے مشترکہ قواعد و طریقۂ کار تیار کرنے پر بھی اتفاق ہوا تاکہ مختلف بورڈز کے امیدواروں کے لیے معیار میں فرق کم کیا جا سکے۔
کوہاٹ، کوئٹہ اور وفاقی بورڈ نے اپنی نمایاں عملی مثالیں فورم میں پیش کیں، جبکہ سندھ میں ای مارکنگ کے نفاذ کو شفافیت اور کارکردگی کی جانب قدم قرار دیا گیا۔ آئی بی سی سی حکام کے مطابق اصلاحات کا مقصد ایسا نظام بنانا ہے جو یادداشت کے بجائے سمجھ بوجھ کی جانچ کرے۔ ان فیصلوں کی حقیقی کامیابی مشترکہ قواعد کے باقاعدہ اجرا، اساتذہ و ممتحنین کی تربیت، بورڈ سطح پر یکساں نفاذ اور طلبہ و والدین کو بروقت واضح معلومات ملنے پر منحصر ہوگی۔




