انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن کے 184ویں فورم نے ملک کے امتحانی نظام کو رٹّے پر مبنی جانچ سے تصوراتی اور قابلیت پر مبنی تشخیص کی طرف منتقل کرنے، امتحانات میں زیادہ یکسانیت لانے اور سرٹیفکیٹس کی شناخت و تصدیق بہتر بنانے سے متعلق متعدد فیصلوں اور سفارشات پر اتفاق کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق دو روزہ اجلاس مری میں منعقد ہوا، جس میں ملک کے تعلیمی بورڈز اور نصاب سے متعلق اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

فورم کو بتایا گیا کہ سندھ کے تعلیمی بورڈز، وفاقی تعلیمی بورڈ، آزاد جموں و کشمیر بورڈ، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی بورڈ، آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ اور ضیاء الدین بورڈ نے نئے گریڈنگ نظام پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔ اس نظام میں کامیابی کے لیے کم از کم نمبر 33 سے بڑھا کر 40 فیصد کیے گئے ہیں۔ یہ تبدیلی رپورٹ میں نامزد بورڈز کے حوالے سے بیان ہوئی؛ اسے تمام بورڈز میں ایک ہی تاریخ سے نافذ ملک گیر حکم سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ باقی اداروں میں نفاذ ان کے ضابطہ جاتی اور انتظامی مراحل سے مشروط ہے۔

شرکا نے نئے گریڈنگ طریقے کے بارے میں طلبہ، والدین، اساتذہ اور امتحانی عملے کے لیے آگاہی ورکشاپس جاری رکھنے پر زور دیا۔ نمبر اور گریڈ تبدیل کرنے سے تعلیمی معیار خود بخود بہتر نہیں ہوتا، اس لیے سوالیہ پرچوں، تدریس، ممتحنین کی تربیت، عملی امتحانات اور نتائج کے تجزیے کو بھی اسی تصوراتی نظام سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ فورم نے تشخیص میں شفافیت، معیار اور مختلف بورڈز کے نتائج کے قابلِ تقابل ہونے کو بنیادی مقصد قرار دیا۔

ایک اہم فیصلہ ثانوی اور اعلیٰ ثانوی اسناد پر طالب علم کا ب فارم یا قومی شناختی کارڈ نمبر درج کرنے سے متعلق تھا۔ اس اقدام کا مقصد ایک ہی یا ملتے جلتے نام رکھنے والے امیدواروں کے ریکارڈ میں فرق، سند کی تصدیق اور ڈیجیٹل معلومات کے تبادلے کو آسان بنانا بتایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ اداروں کو ذاتی معلومات کے تحفظ، غلط نمبر کی اصلاح اور ایسے طلبہ کے لیے واضح طریقۂ کار بنانا ہوگا جن کی شناختی دستاویز میں بعد میں تبدیلی آئے۔

فورم نے نظری اور عملی امتحانات کے لیے یکساں تعلیمی و امتحانی کیلنڈر اور مشترکہ رہنما اصول تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ یکساں کیلنڈر سے داخلوں، نتائج، دوبارہ جانچ اور اگلی تعلیمی سطح میں منتقلی کے مسائل کم کیے جاسکتے ہیں، مگر مختلف صوبوں اور علاقوں کے تعلیمی حالات، تعطیلات اور انتظامی صلاحیت کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ اجلاس میں سندھ کے بعض بورڈز میں الیکٹرانک مارکنگ کے استعمال کو سراہا گیا اور دیگر اداروں کے لیے قابلِ تقلید تجربہ قرار دیا گیا۔

دینی تعلیم کی مساوات کے بارے میں مزید 12 مدارس کو متعلقہ شرائط پوری کرنے پر مساوات کے لیے تجویز کیا گیا، جس سے رپورٹ کے مطابق ایسے منظور شدہ اداروں کی مجموعی تعداد 26 ہوسکتی ہے۔ یہ سفارش خود بخود ہر سند کو مساوی قرار نہیں دیتی؛ حتمی حیثیت ادارے کی منظوری، نصاب، لازمی مضامین اور آئی بی سی سی کے قواعد کے مطابق ہوگی۔ اسی طرح غیر ملکی بورڈز کے طلبہ کے لیے سائنس گروپ کی مساوات میں کم از کم دو سائنس مضامین کی شرط سے متعلق اصول پر بھی غور کیا گیا۔

اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے طلبہ کے لیے وظائف، بیرون ملک تعلیمی تجربات اور موسم سرما و گرما کے تعلیمی کیمپوں کی تجاویز بھی زیر بحث آئیں۔ رپورٹ میں ان پروگراموں کی رقم، انتخابی معیار، نشستوں کی تعداد یا آغاز کی تاریخ نہیں دی گئی، اس لیے انہیں حتمی طور پر شروع شدہ اسکیمیں نہیں کہا جاسکتا۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت 184ویں فورم کا انعقاد، نامزد بورڈز میں نئے گریڈنگ نظام اور 40 فیصد پاسنگ مارکس کا نفاذ، سرٹیفکیٹس پر شناختی نمبر درج کرنے کا فیصلہ، مشترکہ کیلنڈر و رہنما اصولوں پر اتفاق اور مساوات سے متعلق سفارشات ہیں۔ ہر اقدام کی ملک گیر عملی صورت متعلقہ بورڈز کے نوٹیفکیشن، تکنیکی تیاری اور نفاذی تاریخ سے واضح ہوگی۔