برسلز: یورپی پارلیمنٹ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو یورپی یونین کا اعلیٰ انسانی حقوق اعزاز دینے کا اعلان کیا ہے۔ جیو نیوز میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق عدالت کو یہ اعزاز ایسے وقت دیا گیا ہے جب اسے امریکہ کی جانب سے پابندیوں اور شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولا نے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون اور انصاف کے نفاذ میں عدالت کے کردار کو سراہا۔

میٹسولا نے کہا کہ یورپی یونین کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی اداروں کے احترام پر قائم ہے اور یہ اعزاز عدالت کے بین الاقوامی قانون برقرار رکھنے کے کام کا اعتراف ہے۔ آئی سی سی جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی اور بعض دیگر سنگین بین الاقوامی جرائم سے متعلق مقدمات کی سماعت کے لیے قائم مستقل عدالت ہے، تاہم اس کے دائرۂ اختیار اور فیصلوں پر مختلف ممالک کے درمیان سیاسی اور قانونی اختلافات موجود رہے ہیں۔

امریکی حکومت نے عدالت کے بعض اقدامات پر سخت اعتراض کیا ہے اور اس سے وابستہ افراد کے خلاف پابندیوں کا راستہ اختیار کیا۔ واشنگٹن کا مؤقف مختلف تحقیقات اور عدالتی کارروائیوں کے حوالے سے آئی سی سی سے متصادم رہا ہے، جبکہ یورپی یونین کے متعدد رکن ممالک عدالت کی آزادی اور اس کے قانونی مینڈیٹ کی حمایت کرتے ہیں۔ موجودہ انعام اسی وسیع تر سفارتی اختلاف کے دوران سامنے آیا ہے۔

اعزاز دینے کا فیصلہ عدالت کے کسی مخصوص مقدمے کے قانونی نتیجے کی توثیق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ آئی سی سی میں زیر سماعت یا زیر تحقیق معاملات اپنے عدالتی طریقہ کار، شواہد اور متعلقہ قانونی معیار کے مطابق آگے بڑھتے ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ کا فیصلہ بنیادی طور پر ادارے کے انسانی حقوق اور بین الاقوامی احتساب سے متعلق کردار کی سیاسی و علامتی حمایت کا اظہار ہے۔

اس پیش رفت سے امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان آئی سی سی کے کردار پر موجود اختلاف دوبارہ نمایاں ہوسکتا ہے۔ یورپی قیادت ایک عرصے سے بین الاقوامی عدالتوں اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کی حمایت کرتی رہی ہے، جبکہ بعض بڑی طاقتیں عدالت کے دائرۂ اختیار سے متعلق تحفظات رکھتی ہیں۔ انعام کے بعد آئی سی سی کو سیاسی حمایت تو ملے گی، لیکن پابندیوں، مالی دباؤ اور رکن و غیر رکن ممالک کے تعاون سے متعلق عملی چیلنجز برقرار رہیں گے۔