تہران: ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کی بحری فورس نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج میں چار تیل بردار جہازوں کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایرانی فورس نے بیان میں کہا کہ ہدف بنائے گئے جہازوں پر آگ لگی ہوئی تھی اور انہیں ایسے بحری راستوں پر سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا جنہیں ایران نے غیر مجاز قرار دیا۔

ایرانی بیان میں کہا گیا کہ یہ جہاز سمندر میں ایک جہاز سے دوسرے جہاز کو تیل منتقل کرنے کی سرگرمی میں مصروف تھے۔ پاسداران انقلاب نے امریکہ پر بھی الزام لگایا کہ وہ بحری جہازوں کو ایسے راستے استعمال کرنے کی ترغیب دے رہا ہے جہاں بارودی سرنگوں کا خطرہ موجود ہے، جس سے سمندری واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ الزامات ایرانی حکام کے مؤقف پر مبنی ہیں اور دستیاب رپورٹ میں ان کی آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔

واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور خلیجی بحری راستوں کی سلامتی کے بارے میں خدشات شدید ہو چکے ہیں۔ خلیج اور اس سے منسلک آبنائے دنیا کی تیل و گیس تجارت کے لیے انتہائی اہم ہیں، اس لیے تجارتی جہاز رانی میں کسی بڑے خلل کا اثر عالمی توانائی قیمتوں اور سپلائی چین پر پڑ سکتا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران توانائی منڈی پہلے ہی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھ رہی ہے۔

ایرانی حکام نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ مزید فوجی اقدامات کی صورت میں ردعمل کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب خطے میں موجود امریکی اور اتحادی افواج اپنے بحری اور فضائی اثاثوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ فریقین کے بیانات میں متعدد متنازع دعوے شامل ہیں، اس لیے جہازوں کو پہنچنے والے حقیقی نقصان، عملے کی حالت اور واقعے کے مکمل حالات کے بارے میں حتمی نتیجہ آزاد یا باضابطہ تصدیق کے بعد ہی اخذ کیا جاسکتا ہے۔

خلیج میں جہاز رانی کے خطرات پاکستان سمیت توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی اہم ہیں۔ تیل اور ایل این جی کی قیمت یا ترسیل میں رکاوٹ درآمدی بل، بجلی اور ایندھن کی لاگت کو متاثر کرسکتی ہے۔ موجودہ واقعہ خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے معاشی اثرات اور بین الاقوامی بحری تجارت کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کی ایک نئی مثال ہے۔