پیرس: فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ملک میں حالیہ پرتشدد بدامنی کے بعد غیر یونین مظاہروں پر پابندی اور احتجاجی سرگرمیوں کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ دی نیوز کے مطابق میکرون نے سکیورٹی کونسل کے اجلاس کے بعد کہا کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والی بدامنی میں حکام کے ردعمل میں خامیاں رہیں اور آئندہ مظاہروں سے قبل انتظامات بہتر بنانا ضروری ہے۔

فرانسیسی صدر نے منظم انتہائی بائیں بازو کے گروہوں پر الزام لگایا کہ وہ پرتشدد احتجاج کے ذریعے ریاستی نظام کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دعویٰ صدر میکرون کا سیاسی و سکیورٹی مؤقف ہے؛ کسی مخصوص گروہ یا فرد کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین متعلقہ تحقیقات اور عدالتی کارروائی سے ہوگا۔ میکرون نے تسلیم کیا کہ حکام کو حالیہ واقعات میں اچانک پیدا ہونے والی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا اور سکیورٹی ردعمل میں بہتری کی ضرورت ہے۔

حکومت کی مجوزہ حکمت عملی میں ایسے مظاہروں کے خلاف زیادہ سخت کارروائی شامل ہے جو تسلیم شدہ یونینوں یا باقاعدہ تنظیمی ڈھانچے کے بغیر منعقد ہوں اور جن میں تشدد یا املاک کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو۔ فرانس میں احتجاج اور اجتماع کی آزادی قانونی طور پر محفوظ شہری حقوق میں شامل ہیں، اس لیے کسی نئی پابندی یا انتظامی اقدام کو ملکی قانون اور شہری آزادیوں کے تقاضوں کے مطابق نافذ کرنا ہوگا۔

حالیہ بدامنی نے فرانسیسی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھایا ہے۔ احتجاجی تحریکوں کے دوران پولیس کی حکمت عملی، گرفتاریاں، شہری آزادی اور املاک کے تحفظ کے درمیان توازن فرانس میں طویل عرصے سے بحث کا موضوع رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کا حق برقرار رہنا چاہیے لیکن منظم تشدد اور توڑ پھوڑ کو اس حق کی آڑ میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔

میکرون کے اعلان کے بعد توجہ اس بات پر ہوگی کہ حکومت عملی طور پر کن قانونی اختیارات کو استعمال کرتی ہے اور مجوزہ پابندیاں عدالتوں یا سیاسی اپوزیشن کی جانب سے کس ردعمل کا سامنا کرتی ہیں۔ آئندہ مظاہرے نئے سکیورٹی انتظامات کا اہم امتحان ہوں گے، جبکہ حکومت کے الزامات اور احتجاجی گروہوں کے کردار سے متعلق حقائق کی مزید وضاحت تحقیقات کے نتیجے میں متوقع ہے۔