ریاض: سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی شہروں کی طرف بھیجے گئے چھ ڈرونز کو فضا میں تباہ کردیا، جبکہ ایک ڈرون کو روکنے کے دوران گرنے والے ملبے سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق حملوں میں مدینہ سمیت مختلف مقامات کو ہدف بنانے کی کوشش کی گئی، جس سے یمن اور سعودی عرب کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اتحادی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے چھ ڈرونز کو روک کر تباہ کیا۔ ملبہ آبادی والے علاقے میں گرنے سے جانی نقصان ہوا، تاہم دستیاب رپورٹ میں تمام متاثرہ مقامات اور نقصان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں کی گئیں۔ حوثی گروپ نے سعودی سرزمین کے اندر بعض گہرے حملوں سے متعلق دعووں کی تردید بھی کی ہے، اس لیے متحارب فریقوں کے بیانات میں موجود اختلافات کو آزادانہ تصدیق کے بغیر حتمی حقیقت نہیں سمجھا جاسکتا۔

یہ واقعات ایسے وقت ہوئے ہیں جب یمن کا تنازع ایک بار پھر وسیع علاقائی کشیدگی سے جڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران نے مصر کی یمن تنازع میں مبینہ شمولیت سے صورت حال مزید مشکل ہونے کا مؤقف اختیار کیا ہے، جبکہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون بھی سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ریاض پہنچے۔ مختلف ممالک کی سفارتی اور فوجی سرگرمیاں اس بحران کے علاقائی اثرات کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔

سعودی عرب کے شہروں اور اہم تنصیبات پر ڈرون یا میزائل حملوں کا خطرہ توانائی کی عالمی منڈی کے لیے بھی اہم ہے۔ مملکت دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے، اس لیے کسی بڑے حملے یا تنصیبات میں خلل سے خام تیل کی قیمتوں اور عالمی سپلائی پر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔ حالیہ حملوں نے پہلے سے بلند توانائی قیمتوں اور بحری تجارت سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔

حوثی گروپ اور سعودی قیادت والے اتحاد کے دعووں کی مکمل آزادانہ تصدیق جنگی حالات میں مشکل رہتی ہے۔ اس لیے ڈرونز کی تعداد، اہداف اور آپریشنل تفصیلات کے بارے میں سرکاری بیانات کو متعلقہ فریقوں سے منسوب کرنا ضروری ہے۔ تاہم دو شہریوں یا افراد کی ہلاکت کی اطلاع اس امر کو واضح کرتی ہے کہ فضائی حملوں کو روکنے کی کارروائیاں بھی آبادی کے لیے خطرہ پیدا کرسکتی ہیں اور تنازع کے پھیلاؤ سے انسانی نقصان بڑھنے کا خدشہ برقرار ہے۔