پیرس: بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) نے کہا ہے کہ اس کے رکن ممالک مارچ میں کیے گئے اجتماعی وعدے کے تحت اب تک تقریباً 32 کروڑ 50 لاکھ بیرل تیل اور تیل سے بنی مصنوعات اپنے ہنگامی ذخائر سے جاری کر چکے ہیں۔ ڈان کی 4 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق یہ مقدار مارچ میں طے شدہ 40 کروڑ بیرل کے مجموعی ہدف کا 80 فیصد سے زیادہ بنتی ہے۔

IEA کے مطابق مارچ کی اجتماعی کارروائی میں 32 رکن ممالک شریک تھے، جن میں جی 7 کے تمام ممالک بھی شامل ہیں۔ ہنگامی ذخائر کے اجرا کا مقصد عالمی منڈی میں رسد کے دباؤ کو کم کرنا اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز سے جہاز رانی میں رکاوٹوں کے باعث ایندھن، خصوصاً ڈیزل، کی قیمتوں میں اضافے کو محدود کرنا ہے۔

تازہ پیش رفت سے ایک روز قبل جی 7 ممالک نے IEA کے ساتھ رابطے میں آئندہ چار ماہ کے دوران 10 کروڑ بیرل خام تیل اور تیل مصنوعات جاری کرنے پر اتفاق کیا۔ معاہدے میں ابتدائی 20 دنوں کے اندر ڈیزل کی قابلِ ذکر مقدار فوری طور پر مارکیٹ میں لانے کا بھی ذکر ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق یہ ابھی واضح نہیں کہ جی 7 کا نیا 10 کروڑ بیرل کا اعلان مارچ کے وعدے میں باقی رہ جانے والے تقریباً 7 کروڑ 50 لاکھ بیرل کو شامل کرتا ہے یا اس سے الگ اضافی مقدار ہے۔

عالمی توانائی منڈی پر دباؤ کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی محدود صورتحال ہے، جہاں ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں بحری آمدورفت پر دباؤ بڑھایا ہے۔ اس کے ساتھ روسی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں نے بھی تیل مصنوعات کی عالمی سپلائی میں غیر یقینی پیدا کی ہے۔ ان حالات میں ڈیزل کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ امریکا اور دیگر بڑی معیشتوں کے لیے فوری پالیسی مسئلہ بن گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادی ممالک پر ڈیزل کے ذخائر جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ جی 7 نے یہ بھی کہا ہے کہ رکن ممالک کے درمیان ڈیزل برآمدات پر پابندی نہیں لگائی جائے گی۔ ٹرمپ نے الگ بیان میں کہا کہ امریکا جلد اپنے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر دوبارہ بھرنا شروع کرے گا، تاہم انہوں نے اس منصوبے کی مقدار یا وقت سے متعلق تفصیلی شیڈول نہیں دیا۔

ہنگامی ذخائر کا اجرا قلیل مدت میں سپلائی کے جھٹکے کو نرم کر سکتا ہے، لیکن یہ مستقل پیداوار کا متبادل نہیں۔ عالمی قیمتوں کی سمت آئندہ ہفتوں میں جنگ کی شدت، آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت، اوپیک پلس کی پیداوار اور جی 7 و IEA کے عملی اجرا کی رفتار سے متاثر رہے گی۔