لاہور: پاکستان ریلوے نے 13 مسافر اور ایکسپریس ٹرینوں کی کمرشل آپریشن نجی شعبے کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ حکام کو یہ عمل رواں سال 31 دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈان کی 4 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ آؤٹ سورسنگ کے ساتھ ساتھ خراب یا غیر فعال کوچز اور ویگنوں کو قابلِ استعمال بنانے کی مہم بھی تیز کی جا رہی ہے۔

وزیر کے مطابق آؤٹ سورسنگ کے لیے اشتہار، بولی اور کنٹریکٹ ایوارڈ سمیت ضروری مراحل جلد مکمل کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت بھی چھ ٹرینوں کی کمرشل آپریشن نجی فریق چلا رہے ہیں اور دسمبر تک مزید 13 ٹرینیں اس ماڈل کے تحت دی جائیں گی۔ فہرست میں سندل، علامہ اقبال ایکسپریس، فیض احمد فیض، فرید ایکسپریس، سکھر ایکسپریس، بابو پیسنجر، بلھے شاہ پیسنجر، موہنجوداڑو ایکسپریس، لاثانی ایکسپریس، سیالکوٹ ایکسپریس، کراچی ایکسپریس، بہاؤالدین زکریا ایکسپریس اور تیزگام شامل ہیں۔

حنیف عباسی نے ریلوے افسران کو خراب بریک سلنڈرز، بلاکس اور شوز تبدیل کرنے اور ایسی کوچز و ویگنوں کی بحالی کا ہدف دیا ہے جو فنی خرابیوں کے باعث استعمال میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے انفراسٹرکچر اور رولنگ اسٹاک کی دیکھ بھال محفوظ ٹرین آپریشن کے لیے بنیادی شرط ہے، اس لیے مرمت اور اسپیئر پارٹس کی فراہمی میں تاخیر کرنے والے وینڈرز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق وزیر ریلوے نے ایک اجلاس میں ایسے نجی سپلائرز کو بلیک لسٹ کرنے کی ہدایت بھی کی جنہوں نے آلات اور مواد کی فراہمی بروقت نہیں کی۔ ورکشاپس اور یارڈز میں جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے اور چوری روکنے کے لیے نجی سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کی تجویز بھی زیرِ عمل ہے۔

ریلوے حکام کو سکھر ڈویژن میں جاری ٹریک رینیول کا کام 31 دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جس سے سفر کا وقت تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کم ہونے کی توقع ظاہر کی گئی۔ اسی طرح حالیہ سیلاب سے متاثر لاہور-فیصل آباد سیکشن کے میاں کلر پل کی بحالی 60 دن میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

وزیر ریلوے نے امید ظاہر کی کہ جاری مالی سال کے اختتام تک مسافر اور فریٹ آپریشن سے مجموعی آمدن 120 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم آؤٹ سورسنگ کی کامیابی کا دارومدار شفاف بولی، سروس کے معیار، کرایوں کے انتظام، مسافر سہولت اور نجی آپریٹرز کی جوابدہی پر ہو گا۔