اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ممبر اسٹیٹ کو عدالت میں اپنی غیرحاضری سے متعلق مبینہ غلط بیان کے معاملے پر توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔ یہ کارروائی زمین کی الاٹمنٹ سے متعلق متاثرین کے مقدمے میں ایک سنگل بینچ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آئی۔

چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل حسنین حیدر تھہیم نے عدالت کو بتایا کہ سی ڈی اے کے ممبر اسٹیٹ نے موجودہ عدالت کو اپنی بیماری کے باعث عدم حاضری کی اطلاع دی، تاہم اسی دوران وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک دوسرے بینچ کے سامنے پیش ہوئے۔ وکیل نے اپنے مؤقف کی تائید میں جسٹس راجہ انعام امین منہاس کی عدالت کی حاضری شیٹ بھی پیش کی۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران مشاہدہ کیا کہ پیش کردہ صورتحال میں مبینہ غلط بیان کے معاملے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے اس کے بعد سی ڈی اے ممبر اسٹیٹ کو شوکاز نوٹس جاری کر کے سماعت ملتوی کر دی۔ یہ نوٹس کسی حتمی سزا یا توہین عدالت ثابت ہونے کے مترادف نہیں؛ متعلقہ افسر کو الزام کے جواب اور عدالتی عمل کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملے گا۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ زمین کے متاثرین سے متعلق اصل معاملہ پہلے ہی سنگل بینچ میں درخواست گزار کے حق میں طے ہو چکا ہے، لیکن فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث درخواست گزار کو تیسری مرتبہ عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔ موجودہ توہین عدالت کی درخواست اسی مبینہ عدم عملدرآمد سے متعلق ہے۔

دستیاب عدالتی رپورٹ میں شوکاز نوٹس کے اجرا اور سماعت ملتوی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم سی ڈی اے ممبر اسٹیٹ کی جانب سے تفصیلی جواب یا عدالت کے کسی حتمی نتیجے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ اس لیے معاملہ زیرِ سماعت ہے اور مبینہ غلط بیانی کے بارے میں حتمی قانونی تعین آئندہ عدالتی کارروائی میں ہوگا۔