اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایئرپورٹ پر آف لوڈ کیے گئے شہری نذیر محمد کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے معاملے کے حل کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ریویو کمیٹی کے سامنے پیش ہوں۔ جسٹس ایاز شوکت نے شہری کی جانب سے آف لوڈنگ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران یہ ہدایت جاری کی۔

عدالتی طلبی پر ایف آئی اے کی ایڈیشنل ڈائریکٹر زنیرہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ سماعت کے دوران جسٹس ایاز شوکت نے ایف آئی اے سے مسافروں کو آف لوڈ کرنے کی وجوہات کے بارے میں سوال کیا اور مشاہدہ کیا کہ متاثرہ شخص کو کارروائی کی بنیاد سے مناسب طور پر آگاہ کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے ویزا کے اجرا کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سفارت خانے درخواست گزار کے بینک اسٹیٹمنٹس اور دیگر دستاویزات کا جائزہ لیتے ہیں، اس لیے امیگریشن حکام کو اپنے دائرہ اختیار کے اندر واضح وجوہات کے ساتھ کارروائی کرنی چاہیے۔

ایف آئی اے کی ایڈیشنل ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ کسی مسافر کو آف لوڈ کیے جانے کی صورت میں اسے ایک آف لوڈنگ نمبر دیا جاتا ہے جس میں کارروائی کی وجہ بھی درج ہوتی ہے۔ انہوں نے نذیر محمد کے معاملے میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ ازبکستان کے بزنس ویزا پر سفر کر رہے تھے، تاہم ایف آئی اے کے سامنے انہوں نے ورک ویزا پیش کیا۔ یہ ایف آئی اے کا بیان ہے اور درخواست گزار کے مؤقف یا اس اختلاف کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین عدالت نے اس سماعت میں نہیں کیا۔

ایف آئی اے افسر نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ اگر درخواست گزار فوری طور پر ادارے کے سامنے پیش ہو تو معاملے کے حل میں سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس کے بعد عدالت نے شہری کو ایف آئی اے ریویو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔

موجودہ عدالتی حکم کا مقصد تنازع کو ادارہ جاتی ریویو کے ذریعے آگے بڑھانا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں نہ تو آف لوڈنگ کو حتمی طور پر قانونی یا غیرقانونی قرار دیا گیا ہے اور نہ ہی درخواست گزار کو بیرون ملک سفر کی فوری اجازت دینے کا حکم سامنے آیا ہے۔ معاملہ زیرِ سماعت ہے اور ریویو کمیٹی کے سامنے پیشی کے بعد آئندہ کارروائی میں مزید صورتحال واضح ہو سکتی ہے۔