اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی احتساب بیورو کے ڈپٹی چیئرمین سہیل ناصر اور پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر شاہ کی تقرریوں کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار کو اپنے الزامات اور اہلیت سے متعلق اعتراضات کے حق میں مواد پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے اس مرحلے پر تقرریوں کو غیر قانونی قرار نہیں دیا اور مقدمہ مزید سماعت کے لیے زیر التوا ہے۔

جسٹس محمد اعظم خان نے شہری محمد عبداللہ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دونوں عہدوں پر تقرری کے لیے متعلقہ قانونی اہلیت پوری نہیں کی گئی۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ تقرریوں کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے کر انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔

سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے پوچھا کہ وہ کن دستاویزات اور شواہد کی بنیاد پر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ متعلقہ افسران مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔ عدالت نے واضح کیا کہ محض الزام کافی نہیں اور درخواست گزار کو اپنے مؤقف کی بنیاد بننے والا قابل جانچ مواد پیش کرنا ہوگا۔

عدالتی کارروائی میں نیب کے قانونی ڈھانچے اور اعلیٰ عہدوں کے لیے مقررہ شرائط بھی زیر بحث آئیں۔ ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کے احتسابی اور قانونی کام میں اہم ذمہ داریاں رکھتے ہیں، اس لیے ان کی تقرریوں سے متعلق تنازع بنیادی طور پر قانونی اہلیت، طریقۂ تقرری اور متعلقہ قانون کی تشریح سے جڑا ہوا ہے۔

درخواست میں اٹھائے گئے نکات ابھی درخواست گزار کے دعوے ہیں اور عدالت نے ان کی صحت کی تصدیق نہیں کی۔ اسی طرح دونوں عہدیداروں کی تقرریاں اس وقت تک برقرار ہیں جب تک عدالت کوئی مختلف حکم جاری نہ کرے۔ اگلی کارروائی میں درخواست گزار کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات اور سرکاری فریق کا جواب مقدمے کی سمت متعین کرنے میں اہم ہوگا۔

عدالت کی جانب سے ثبوت طلب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مقدمہ ابتدائی جانچ کے مرحلے میں ہے۔ کسی سرکاری تقرری کو quo warranto یا دوسرے آئینی طریقے سے چیلنج کرنے میں عدالت عام طور پر یہ دیکھتی ہے کہ متعلقہ شخص قانونی شرائط پوری کرتا ہے یا نہیں اور تقرری مجاز طریقے سے ہوئی یا نہیں۔ اس مقدمے میں بھی حتمی نتیجہ ریکارڈ اور فریقین کے قانونی دلائل کی جانچ کے بعد ہی سامنے آئے گا۔