اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان بیڈمنٹن فیڈریشن کے 24 اکتوبر 2025 کو ہونے والے انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پورا انتخابی عمل دوبارہ کرانے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس اعظم خان نے امتیاز گل اور دیگر کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان اسپورٹس بورڈ کو ہدایت کی کہ فیڈریشن کے آئین کے رول 17 کے مطابق نیا الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے اور انتخابی شیڈول کے اعلان سے نتائج کے اجرا تک تمام مراحل 90 دن کے اندر مکمل کیے جائیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق موجودہ انتظامیہ کی جگہ عبوری طور پر ایک ایڈہاک کمیٹی فیڈریشن کے روزمرہ امور سنبھالے گی۔ اس کمیٹی کی سربراہی وزارت بین الصوبائی رابطہ کے ایڈیشنل سیکریٹری کریں گے جبکہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز کے ڈائریکٹر بھی اس کا حصہ ہوں گے۔ عدالت نے انتظامی تسلسل برقرار رکھنے کے لیے اس عبوری بندوبست کو نئے منتخب عہدیداروں کے چارج سنبھالنے تک جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان سے ایک ایک سابق بیڈمنٹن چیمپیئن کو ایڈہاک کمیٹی میں شامل کیا جائے۔ اس بندوبست کا مقصد انتخابی عمل کے دوران کھیل اور فیڈریشن کی معمول کی سرگرمیوں کو جاری رکھنا اور نئے انتخابات کی نگرانی کے لیے نسبتاً وسیع نمائندگی فراہم کرنا ہے۔

عدالت کا حکم پاکستان کی کھیلوں کی فیڈریشنوں میں انتخابی نظم، آئینی قواعد اور اسپورٹس بورڈ کی نگرانی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ فیصلے میں بنیادی توجہ اس بات پر ہے کہ فیڈریشن کے انتخابات اس کے اپنے آئین اور مقررہ قواعد کے مطابق ہوں۔ عدالتی حکم کے بعد 2025 کے انتخابی نتائج کی قانونی حیثیت ختم ہو گئی ہے اور اب نیا انتخابی عمل ہی آئندہ مستقل انتظامیہ کا تعین کرے گا۔

پاکستان اسپورٹس بورڈ کو اب عدالتی مدت کے اندر الیکشن کمیشن بنانے، شیڈول جاری کرنے اور انتخابی عمل مکمل کرنے کے انتظامات کرنا ہوں گے۔ اس دوران ایڈہاک کمیٹی کو روزمرہ انتظام، قومی سطح کی سرگرمیوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ نئے انتخابات کے نتائج آنے اور منتخب باڈی کے چارج سنبھالنے کے بعد عبوری کمیٹی کا کردار ختم ہو جائے گا۔