اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے 122 ملازمین کی برطرفی سے متعلق مقدمے کی سماعت ادارے کی جانب سے تنخواہیں جاری کرنے کی یقین دہانی کے بعد 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو نے کی۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ پی اے آر سی کے چیئرمین ڈاکٹر مرتضیٰ حسن اندرابی عدالتی طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئے کیونکہ وہ اس وقت بیرونِ ملک ہیں۔ ادارے کے وکیل نے عدالت کے روبرو یقین دہانی کرائی کہ تمام 122 ملازمین کی تنخواہیں جاری کی جائیں گی۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ ملازمین کو ادائیگی ہونے تک وہ مقدمے میں مزید کارروائی آگے نہیں بڑھائیں گے۔
عدالت نے اس یقین دہانی کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ دستیاب عدالتی رپورٹ کے مطابق یہ ملازمین جولائی کے آخر میں ملازمت سے برطرف کیے جانے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر چکے تھے۔ موجودہ سماعت میں بنیادی پیش رفت تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق پی اے آر سی کے وکیل کی یقین دہانی ہے؛ عدالت نے اس مرحلے پر ملازمین کی برطرفی کے بنیادی قانونی تنازع کا حتمی فیصلہ نہیں سنایا۔
یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ درخواست گزار ملازمین کی فوری مالی ادائیگی اور ان کی ملازمت سے متعلق تنازع دونوں عدالتی کارروائی کا حصہ ہیں، تاہم دستیاب معلومات میں صرف تنخواہوں کے اجرا کی یقین دہانی اور اگلی تاریخِ سماعت کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس لیے تنخواہوں کی عملی ادائیگی کو اس وقت تک مکمل شدہ نتیجہ نہیں کہا جا سکتا جب تک متعلقہ ادارہ ادائیگی نہ کر دے یا عدالت کے سامنے اس کی تصدیق نہ ہو جائے۔
عدالت میں پی اے آر سی کے وکیل کی دی گئی یقین دہانی آئندہ سماعت میں بھی اہم ہو گی، کیونکہ وکیل نے واضح طور پر 122 ملازمین کو تنخواہیں جاری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ مقدمے کی اگلی کارروائی 9 اکتوبر کو متوقع ہے، جب عدالت برطرفی سے متعلق درخواست اور ادائیگی کی صورتِ حال کا مزید جائزہ لے سکتی ہے۔

