اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹروں کے طویل اوقاتِ کار سے متعلق درخواست کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے سامنے باضابطہ نمائندگی میں تبدیل کرتے ہوئے کونسل کو معاملے کا جائزہ لینے اور اپنی سفارشات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سامنے رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے سماعت کے دوران ہفتے میں 102 گھنٹے تک ڈیوٹی لینے کے دعوے پر تشویش ظاہر کی اور اس نوعیت کے شیڈول کو غیر انسانی قرار دیا۔

عدالت کے سامنے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (سی پی ایس پی) کی جانب سے جمع کرائے گئے مواد میں طویل مسلسل ڈیوٹی کے مریضوں کی حفاظت اور ڈاکٹروں کی کارکردگی پر ممکنہ اثرات کی نشاندہی کی گئی۔ دستاویز میں مختلف بین الاقوامی نظاموں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یورپ میں اوسط ہفتہ وار کام کی حد 48 گھنٹے رکھی گئی ہے، جبکہ امریکا میں تربیتی ڈاکٹروں کے لیے چار ہفتوں کی اوسط پر زیادہ سے زیادہ 80 گھنٹے فی ہفتہ کا فریم ورک استعمال ہوتا ہے۔

سی پی ایس پی کے مواد میں یہ بھی کہا گیا کہ طویل جاگنے اور مسلسل کام کے بعد ردعمل، توجہ اور فیصلہ سازی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے طبی غلطیوں کا خطرہ بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔ ادارے نے اپنی تربیتی سفارشات میں کلینیکل اسپیشلٹیز کے لیے کم از کم 48 گھنٹے ہفتہ وار ڈیوٹی کا ذکر کیا ہے، تاہم اس نے واضح کیا کہ وہ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا آجر نہیں اور اصل ملازمت کے اوقات صوبائی حکومتوں، سرکاری ہسپتالوں یا نجی اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

عدالت نے فریقین کی رضامندی سے معاملہ پی ایم ڈی سی کو بھیجتے ہوئے کہا کہ کونسل قابلِ عمل سفارشات مرتب کرے۔ یہ سفارشات بعد میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پالیسی یا انتظامی اقدام کے لیے دی جائیں گی۔ عدالت نے کسی مخصوص نئی حد کو خود نافذ نہیں کیا، اس لیے فی الحال موجودہ ڈیوٹی نظام خودکار طور پر تبدیل نہیں ہوا۔ آئندہ پیش رفت پی ایم ڈی سی کے جائزے اور متعلقہ حکومتوں کے فیصلوں سے مشروط ہوگی۔

معاملہ کئی برس سے عدالتی اور طبی حلقوں میں زیر بحث رہا ہے۔ درخواست میں بنیادی سوال یہ ہے کہ طویل ڈیوٹی ڈاکٹروں کی صحت کے ساتھ مریضوں کی حفاظت، طبی نگرانی اور تربیت کے معیار کو کس حد تک متاثر کرتی ہے۔ ساتھ ہی ہسپتالوں کو یہ عملی مسئلہ بھی درپیش ہے کہ اگر اوقات کم کیے جائیں تو اضافی عملہ اور شفٹیں کیسے فراہم کی جائیں۔ عدالت کے تازہ حکم نے اب اس بحث کو ریگولیٹری سطح پر سفارشات کی تیاری کی طرف منتقل کر دیا ہے۔