اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت کی ماتحت عدلیہ کے ججز کی دیگر صوبوں میں بین الصوبائی روٹیشن کے لیے پالیسی تیار کرنے پر کام شروع کر دیا ہے۔ یہ اسلام آباد کی قانونی برادری کا دیرینہ مطالبہ تھا جسے نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے اصولی طور پر قبول کیا تھا۔ حتمی طریقہ کار ابھی طے نہیں ہوا اور مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔
باخبر ذرائع کے مطابق ایک تجویز یہ ہے کہ روٹیشن پر بھیجے جانے والے عدالتی افسران کو ترجیحاً اس صوبے میں تعینات کیا جائے جہاں سے ان کا اصل تعلق ہے۔ اسلام آباد کی ضلعی عدلیہ میں مختلف طریقوں سے شامل ہونے والے افسران کام کر رہے ہیں، جن میں براہ راست تقرری، مستقل انضمام اور ڈیپوٹیشن شامل ہیں، جبکہ چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے عدالتی افسران وفاقی دارالحکومت میں تعینات ہیں۔
اسلام آباد کی ماتحت عدلیہ میں تقریباً 60 عدالتی افسران بتائے گئے ہیں۔ حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ روٹیشن تمام افسران پر لاگو ہو، نصف پر یا ایک تہائی پر۔ یہ سوال بھی زیر غور ہے کہ پالیسی سول جج، سینئر سول جج، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سمیت تمام سطحوں پر نافذ ہو یا صرف مخصوص کیٹیگریز تک محدود رکھی جائے۔
مجوزہ طریقہ کار کا ایک بنیادی اصول یہ زیر غور ہے کہ اسلام آباد سے جتنے ججز دیگر صوبوں میں بھیجے جائیں، اتنی ہی تعداد میں صوبوں سے عدالتی افسران اسلام آباد لائے جائیں تاکہ ضلعی عدلیہ کی مجموعی افرادی قوت متاثر نہ ہو۔ اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے مئی میں ضلعی عدلیہ کے لیے یکساں تبادلہ اور روٹیشن پالیسی کا باضابطہ مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے اصولی منظوری دی۔
اس معاملے کو رواں سال اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز کے لاہور، پشاور اور سندھ ہائیکورٹس میں تبادلوں کے بعد مزید توجہ ملی۔ بار تنظیموں نے انفرادی یا منتخب تبادلوں کے بجائے منظم اور دورانیہ طے شدہ روٹیشن کے نظام کا مطالبہ کیا۔ اس سے پہلے 2018 میں وفاقی حکومت نے اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز میں تبدیلی کی تجویز دی تھی تاکہ ماتحت عدلیہ کے ججز کو دیگر صوبوں میں ڈیپوٹیشن پر بھیجا جا سکے۔
مجوزہ پالیسی پر بعض عدالتی افسران کے تحفظات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں بار بار صوبوں کے درمیان نقل و حرکت سے پیشہ ورانہ دباؤ کے نئے امکانات کا خدشہ شامل ہے۔ حکام کے سامنے اس لیے ایسا شفاف اور یکساں نظام وضع کرنے کا چیلنج ہے جو بین الصوبائی تجربہ فراہم کرے، عدالتی آزادی محفوظ رکھے اور اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں میں ججز کی مطلوبہ تعداد برقرار رکھے۔ حتمی پالیسی میں تعداد، کیٹیگری، تعیناتی کا دورانیہ اور متبادل ججز لانے کا طریقہ طے کیے جانے کی توقع ہے۔

