اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کے تقریباً 40 ارب روپے کے مبینہ کرپشن کیس میں سابق چیئرمین اور دیگر ملزمان کی بریت کے خلاف دائر اپیل پر نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے متعلقہ ملزمان کو 20 نومبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہ کارروائی بریت کے خلاف اپیل کی سماعت کا حصہ ہے اور اس مرحلے پر عدالت نے کسی ملزم کو قصوروار قرار نہیں دیا۔
جسٹس شاہ رخ ارجمند نے ای او بی آئی کی جانب سے دائر فوجداری اپیل کی سماعت کی۔ اپیل میں 17 اپریل 2025 کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے ذریعے اسپیشل جج سینٹرل ٹو اسلام آباد نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 265-کے کے تحت سابق چیئرمین اور دیگر ملزمان کو بری کیا تھا۔ مقدمہ ایف آئی اے کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ اسلام آباد میں درج ایف آئی آر نمبر 03/2014 سے متعلق ہے۔
ای او بی آئی کے وکیل آفتاب عالم یاسر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ کا بریت کا فیصلہ مناسب قانونی جواز کے بغیر دیا گیا، حالانکہ ادارے کی سرمایہ کاریوں سے متعلق سنگین مالی بے ضابطگیوں کے الزامات موجود تھے۔ یہ مؤقف اپیل کنندہ کا قانونی دعویٰ ہے اور اس کی حتمی صحت کا تعین عدالتی سماعت کے بعد ہوگا۔
اپیل میں خاص طور پر 15 مارچ 2013 کے ایک معاہدے کے تحت ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سے پلاٹس اور ولاز کی خریداری کا حوالہ دیا گیا۔ ای او بی آئی کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ خریداری سے پہلے آزاد اور شفاف مسابقتی خریداری کا عمل اختیار نہیں کیا گیا اور نہ اشتہار یا مسابقتی بولی ہوئی، جس سے قومی خزانے کو مبینہ طور پر 6.82 ارب روپے نقصان پہنچا۔ ملزمان پر یہ الزام ثابت شدہ عدالتی نتیجہ نہیں بلکہ اپیل میں پیش کیا گیا دعویٰ ہے۔
وکیل نے یہ بھی استدلال کیا کہ بعد میں انویسٹمنٹ کمیٹی کی توثیق یا اس وقت کے قانونی مشیر کی رائے لازمی خریداری قواعد کی مبینہ خلاف ورزی کو ختم نہیں کر سکتی۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک سابق فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قانونی رائے بذات خود حکومت کو قانونی تقاضوں سے ہٹنے کا جواز نہیں دیتی۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد تمام جواب دہندگان کو نوٹس جاری کیے اور 20 نومبر کو ذاتی پیشی کا حکم دیا۔ اگلی سماعت میں عدالت بریت کے خلاف اپیل کے قانونی نکات اور فریقین کے مؤقف کا مزید جائزہ لے گی۔ موجودہ حکم کو بریت منسوخ ہونے یا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

