اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی بورڈ آف ریونیو کے صنعتی پیداوار کی الیکٹرانک نگرانی کے نظام کے خلاف 300 سے زائد صنعتی یونٹس کی آئینی درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس عمیر ملک پر مشتمل ڈویژن بینچ نے گھی و کوکنگ آئل، مشروبات، اسپننگ و ٹیکسٹائل، پیکجڈ دودھ، فوڈ پروسیسنگ، پیکجنگ اور دیگر مینوفیکچرنگ شعبوں سے تعلق رکھنے والے درخواست گزاروں کا معاملہ سنا۔

درخواست گزاروں نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 40 سی کے تحت صنعتی مقامات پر الیکٹرانک مانیٹرنگ آلات نصب کرنے کے اختیار، نظام کی آئینی اور قانونی حیثیت، آلات سے وابستہ مالی بوجھ اور کاروباری سرگرمیوں میں مبینہ مداخلت پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ عدالت نے ابھی ان اعتراضات کو درست یا غلط قرار نہیں دیا؛ فیصلہ محفوظ ہونے کا مطلب ہے کہ فریقین کے دلائل سننے کے بعد تحریری عدالتی فیصلہ بعد میں جاری ہوگا۔

ریونیو ڈویژن اور ایف بی آر کی نمائندگی کرنے والے وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر نے دفعہ 40 سی کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ شق 2013 میں صنعتی پیداوار، فروخت، کلیئرنس اور اسٹاک کی الیکٹرانک نگرانی کے لیے متعارف کرائی گئی تھی۔ ان کے مطابق مقصد اصل پیداوار چھپانے، غیر دستاویزی سپلائی، انڈر انوائسنگ اور سیلز ٹیکس کی ممکنہ چوری کی نشاندہی کرنا ہے۔ انہوں نے متعلقہ سیلز ٹیکس قواعد اور ویڈیو اینالیٹکس، ڈیجیٹل آئی اور حقیقی وقت میں ڈیٹا کی ترسیل کے انتظامات کا بھی حوالہ دیا۔

ایف بی آر کے مؤقف کے مطابق تمباکو، چینی، سیمنٹ اور کھاد سمیت بعض شعبوں میں مانیٹرنگ کے انتظامات پہلے سے استعمال ہوتے رہے ہیں اور مزید صنعتوں تک نظام کی توسیع اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ سرکاری وکیل نے دلیل دی کہ دفعہ 40 سی کوئی نیا سیلز ٹیکس عائد نہیں کرتی بلکہ پہلے سے موجود ٹیکس ذمہ داریوں کے تحت حقیقی پیداوار کی تصدیق کا طریقہ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کی۔

مقدمے کا حتمی قانونی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔ محفوظ فیصلہ جاری ہونے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ عدالت ایف بی آر کے قانونی اختیار، صنعتی یونٹس کے آئینی اعتراضات اور مانیٹرنگ نظام کے نفاذ کے بارے میں کیا حکم دیتی ہے۔ اس لیے موجودہ مرحلے کو ایف بی آر کی کامیابی یا درخواست گزار صنعتوں کی فتح قرار دینا درست نہیں ہوگا؛ فی الحال صرف سماعت مکمل ہوئی ہے اور عدالتی فیصلہ زیر انتظار ہے۔