اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے صنعتی سرگرمی کی حوصلہ افزائی کے لیے جاری انکریمنٹل سپورٹ پیکیج کا خصوصی نرخ 22.98 روپے سے بڑھا کر 25.30 روپے فی یونٹ مقرر کر دیا ہے۔ 7 نومبر کو سامنے آنے والے فیصلے میں ریگولیٹر کے اندر واضح اختلاف بھی ریکارڈ ہوا اور دو ارکان نے مجوزہ شرح کے حسابی جواز پر سوال اٹھایا۔

دستیاب فیصلے کے مطابق اتھارٹی کے چار ارکان میں معاملے پر رائے 2-2 سے تقسیم ہوئی۔ چیئرمین نیپرا وسیم مختار نے کاسٹنگ ووٹ استعمال کرتے ہوئے 25.30 روپے فی یونٹ کی شرح منظور کی۔ دوسری جانب ممبر ٹیرف امینہ احمد اور ممبر ڈویلپمنٹ مقصود انور نے مشترکہ اختلافی نوٹ میں کہا کہ وزارت توانائی کی تجویز کردہ شرح قابلِ اعتماد اور مکمل اعداد و شمار سے ثابت نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق نیپرا کے ادارہ جاتی حساب میں مارجنل لاگت 31.83 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔

اختلافی ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ پیکیج کی اصل لاگت کی مستند جانچ کے بغیر اسے جاری رکھنا دیگر صارفین پر مالی اثر ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے اس وقت تک پیکیج عارضی طور پر معطل کرنے کی سفارش کی جب تک متعلقہ ادارے ضروری ڈیٹا اور مارجنل لاگت کے قابلِ تصدیق حساب فراہم نہ کر دیں۔

نیپرا کے ارکان نے پاور ڈویژن اور اس کے ماتحت اداروں کی جانب سے مطلوبہ معلومات مقررہ مدت میں فراہم نہ کرنے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ فیصلے میں متعلقہ اداروں کے لیے معلومات جمع کرانے کی نئی مدتیں مقرر کی گئی ہیں اور خبردار کیا گیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں پروگرام کی معطلی یا خاتمے سمیت قانونی کارروائی زیر غور آ سکتی ہے۔

اسی تناظر میں چیئرمین نے اختلافی ارکان کے نکات کو سنجیدہ قرار دیا، تاہم ان کا فیصلہ تھا کہ فوری معطلی کے بجائے وزارت توانائی کو مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا ایک اور موقع دیا جائے۔ یہ معاملہ صنعتی بجلی کی قیمت، پیداواری لاگت اور عام صارفین پر ایڈجسٹمنٹس کے اثرات کے باعث اہم ہے۔ نیپرا نے نومبر کے بلوں کے لیے ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت تقسیم کار کمپنیوں کو 2.37 روپے فی یونٹ اضافی وصولی کی اجازت بھی دی، جس سے تقریباً 25 ارب روپے کی وصولی متوقع بتائی گئی ہے۔