اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نئی آٹو پالیسی کا خاکہ پیش کرتے ہوئے گاڑیوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی، مقامی مینوفیکچرنگ، برآمدات اور الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کو اہم اہداف قرار دیا ہے۔ 7 نومبر کو ڈان اور اے پی پی سے منسوب رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت ہارون اختر اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پالیسی کے اہم نکات بیان کیے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پالیسی کی تیاری میں مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت، تکنیکی اعداد و شمار کے جائزے اور دوسرے ممالک کے ماڈلز کا مطالعہ کیا گیا۔
حکومتی مؤقف کے مطابق طویل عرصے تک مقامی صنعت کو بلند درآمدی ڈیوٹی کے ذریعے تحفظ ملا، لیکن صارفین کو عالمی منڈی کے مطابق جدت، خصوصیات اور قیمتوں کا فائدہ مطلوبہ سطح پر نہیں پہنچا۔ نئی حکمت عملی میں مسابقت بڑھانے کے ساتھ مقامی صنعت کو زیادہ مؤثر بنانے اور گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے تاکہ ایندھن کے درآمدی بل اور شہری آلودگی دونوں میں کمی لائی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے والوں کے لیے کسٹمز ڈیوٹی میں چھوٹ اور سیلز ٹیکس میں کمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ 800 سی سی تک پٹرول گاڑیوں سے متعلق موجودہ سہولتوں کو متاثر نہیں کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق زیادہ مینوفیکچررز کی مارکیٹ میں آمد سے مقابلہ بڑھے گا اور صارفین کو بہتر معیار اور قیمت کے مزید انتخاب مل سکیں گے۔
پالیسی کے معاشی پہلو میں مقامی پرزہ سازی، روزگار، برآمدی صلاحیت اور تیل کے درآمدی خرچ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ حکومت نے گاڑیوں کی برآمدات کے لیے آئندہ برسوں میں نمایاں اضافے کا ہدف بھی بیان کیا ہے۔ تاہم قیمتوں میں عملی کمی، نئی سرمایہ کاری اور برآمدی اہداف کا حصول پالیسی کے نفاذ، ریگولیٹری تسلسل اور صنعت کے ردعمل پر منحصر ہوگا۔ اس مرحلے پر سرکاری اعلان پالیسی کی سمت اور مراعات واضح کرتا ہے، جبکہ اس کے نتائج آنے والے برسوں کے اعداد و شمار سے جانچے جائیں گے۔
