اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے خصوصی پیکج کے تحت ٹیرف 25.30 روپے فی یونٹ مقرر کر دیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ریگولیٹر کے دو ارکان نے فیصلے سے اختلاف کیا اور کہا کہ بجلی کی حقیقی مارجنل لاگت 31.83 روپے فی یونٹ بنتی ہے، جس کے باعث منظور شدہ نرخ اور لاگت کے درمیان فرق پر پالیسی اور مالی اثرات کا سوال پیدا ہوتا ہے۔

نیپرا کا فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت صنعتی سرگرمی اور برآمدات کو سہارا دینے کے لیے بجلی کے نرخوں میں مسابقت پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ صنعتی شعبہ طویل عرصے سے توانائی کی بلند لاگت کو پیداواری اخراجات، برآمدی مسابقت اور نئی سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتا رہا ہے۔ نئے پیکج کا مقصد اضافی صنعتی کھپت کی حوصلہ افزائی کرنا اور دستیاب بجلی کو پیداواری سرگرمیوں میں استعمال کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ریگولیٹر نے پیکج پر عمل درآمد سے متعلق شرائط اور مقررہ مدت کی پابندی پر بھی زور دیا ہے۔ نیپرا نے متنبہ کیا ہے کہ اگر متعلقہ تقاضے اور ٹائم لائن پوری نہ ہوئی تو پیکج کی معطلی اور قانونی کارروائی جیسے اقدامات زیر غور آ سکتے ہیں۔ اس تنبیہ سے واضح ہے کہ رعایتی یا خصوصی نرخوں کا اطلاق خودکار طور پر غیر محدود مدت کے لیے نہیں ہوگا بلکہ اسے منظور شدہ قواعد اور نگرانی کے نظام کے تحت چلایا جائے گا۔

دو اختلافی ارکان نے اپنے نوٹس میں لاگت کے تخمینے اور پیکج کے مالی اثرات سے متعلق تحفظات ظاہر کیے۔ اختلافی رائے ریگولیٹری عمل کا حصہ ہے اور اسے حتمی فیصلے سے الگ سمجھنا ضروری ہے؛ اتھارٹی کی اکثریتی منظوری کے بعد مقرر کردہ ٹیرف ہی نافذ العمل فیصلہ ہے، جب تک کسی قانونی یا انتظامی فورم پر اس میں تبدیلی نہ ہو۔

صنعتی صارفین کے لیے 25.30 روپے فی یونٹ نرخ کے حقیقی اثرات کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ پیکج کن صارفین، کتنی اضافی کھپت اور کس مدت پر لاگو ہوتا ہے، اور تقسیم کار کمپنیاں اس کی بلنگ اور تصدیق کیسے کرتی ہیں۔ آنے والے مہینوں میں صنعتی بجلی کی طلب، سرکاری مالی ذمہ داری اور پیداواری شعبے کی کارکردگی سے اس پالیسی کے نتائج زیادہ واضح ہوں گے۔