پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پشاور اور لاہور کے درمیان براہ راست پروازوں کا آغاز 9 نومبر سے کیا جائے گا۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 7 نومبر کی رپورٹ کے مطابق گورنر نے اس نئی فضائی رابطہ سروس کو صوبے کے رہائشیوں، کاروباری مسافروں اور دیگر مقاصد سے لاہور آنے جانے والوں کے لیے سہولت قرار دیا ہے۔
فیصل کریم کنڈی کے مطابق فضائی سفر سے پشاور اور لاہور کے درمیان سفر کا وقت تقریباً 50 منٹ سے ایک گھنٹے تک رہنے کی توقع ہے، جو زمینی راستے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست فضائی رابطے سے کاروباری سرگرمیوں اور شہریوں کی نقل و حرکت میں آسانی پیدا ہوگی۔
گورنر نے بتایا کہ پشاور سے کوئٹہ کے لیے براہ راست پرواز پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے، جبکہ صوبے کے دیگر علاقوں کے لیے فضائی روابط بڑھانے پر بھی کام جاری ہے۔ ان کے مطابق زیر غور مقامات میں ڈیرہ اسماعیل خان، چترال اور پاراچنار شامل ہیں۔ ان مجوزہ روٹس کے بارے میں ابھی حتمی شیڈول یا آغاز کی تاریخ سامنے نہیں آئی، اس لیے انہیں طے شدہ پروازوں کے بجائے زیر غور منصوبوں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
پشاور اور لاہور دونوں اہم انتظامی، تعلیمی اور کاروباری مراکز ہیں۔ براہ راست فضائی سروس ان مسافروں کے لیے خاص طور پر اہم ہو سکتی ہے جنہیں مختصر دورانیے کے کاروباری یا سرکاری سفر کرنا ہوتے ہیں۔ تاہم کسی نئے روٹ کی طویل مدتی کامیابی مسافروں کی طلب، ٹکٹ کی قیمت، پروازوں کی باقاعدگی اور آپریٹر کی تجارتی حکمت عملی پر منحصر ہوتی ہے۔
دوسری رپورٹس میں ابتدائی طور پر ہفتے میں متعدد پروازوں کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم دستیاب مرکزی رپورٹ میں گورنر کے اعلان کا بنیادی مصدقہ نکتہ 9 نومبر سے براہ راست سروس کا آغاز اور سفر کے وقت میں کمی ہے۔ مسافروں کے لیے حتمی اوقات، کرایوں اور بکنگ کی شرائط متعلقہ ایئرلائن کے جاری کردہ شیڈول سے واضح ہوں گی۔
خیبر پختونخوا میں فضائی رابطوں کی توسیع سے صوبے کے دور دراز علاقوں کو بڑے شہری مراکز سے جوڑنے کی کوششوں کو بھی تقویت مل سکتی ہے۔ فی الحال پشاور-لاہور روٹ وہ نئی سروس ہے جس کے آغاز کی تاریخ باقاعدہ طور پر اعلان کی گئی ہے۔
