اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے ستمبر 2026 کے لیے فیول چارج ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 2.3673 روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ بزنس ریکارڈر اور ایکسپریس ٹریبیون کی 7 نومبر کی رپورٹوں کے مطابق یہ اضافہ متعلقہ صارفین کے بلوں میں الگ مد کے طور پر ظاہر ہوگا، جبکہ بعض مخصوص زمروں کو اس ایڈجسٹمنٹ سے استثنا حاصل ہے۔
فیول چارج ایڈجسٹمنٹ بجلی پیدا کرنے میں استعمال ہونے والے ایندھن کی حقیقی لاگت اور پہلے سے مقرر حوالہ لاگت کے فرق کو بعد کے بلنگ دور میں صارفین تک منتقل کرنے کا طریقہ ہے۔ اس لیے یہ بنیادی ٹیرف میں مستقل اضافے سے مختلف ہوتا ہے اور مخصوص مہینے کی پیداواری لاگت سے منسلک رہتا ہے۔ ستمبر کی ایڈجسٹمنٹ کی منظوری کے بعد متعلقہ تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین پر اس کا اثر آئندہ بلوں میں سامنے آئے گا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پری پیڈ صارفین اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اس مخصوص ایڈجسٹمنٹ سے مستثنیٰ ہیں۔ صارفین کے لیے اہم بات یہ ہے کہ بل میں ایف سی اے الگ لائن کے طور پر دکھائی جاتی ہے، جس سے بنیادی نرخ اور عارضی ایندھن ایڈجسٹمنٹ میں فرق کیا جا سکتا ہے۔ بجلی کے بل میں مجموعی اثر صارف کے یونٹس، قابل اطلاق ٹیکس اور دیگر چارجز کے مطابق مختلف ہوگا۔
پاکستان میں بجلی کی پیداواری لاگت درآمدی ایندھن کی قیمت، روپے کی قدر، پن بجلی اور دیگر سستے ذرائع کی دستیابی اور بجلی کی مجموعی طلب سے متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے ماہانہ ایف سی اے میں اضافہ یا کمی ہو سکتی ہے۔ موجودہ فیصلہ ستمبر کے پیداواری اخراجات سے متعلق ہے اور اسے مستقل بنیادی ٹیرف میں 2.3673 روپے اضافے کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔ نیپرا کا نوٹیفکیشن صارفین کے بلوں پر اطلاق کی مدت اور دائرہ واضح کرتا ہے، جبکہ مختلف صارف زمروں کے حتمی بل ان کے استعمال کے مطابق بنیں گے۔
