اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے صنعتی اور زرعی صارفین کے لیے اضافی بجلی کے استعمال پر 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ کا انکریمنٹل پیکج منظور کر لیا ہے۔ ڈان کی 7 نومبر کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایسے صارفین کو معمول یا مقررہ بنیادی سطح سے زیادہ بجلی استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے، تاکہ نظام میں دستیاب بجلی کی طلب بڑھے اور صنعتی و زرعی سرگرمیوں کو نسبتاً کم لاگت والی اضافی کھپت کا راستہ ملے۔

یہ فیصلہ عمومی صنعتی یا زرعی بنیادی ٹیرف کو ہر یونٹ کے لیے 22.98 روپے مقرر کرنے کے مترادف نہیں ہے۔ پیکج کا اطلاق اضافی یعنی incremental consumption پر ہونا ہے اور اس کے لیے بنیادی کھپت اور اہلیت کی شرائط متعلقہ پالیسی و نوٹیفکیشن کے مطابق طے ہوتی ہیں۔ اسی فرق کی وجہ سے صارف کے مجموعی بل پر اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ اس کی کتنی بجلی پیکج کی اہل اضافی کھپت میں شمار ہوتی ہے۔

پاکستان کے بجلی شعبے میں بلند مقررہ لاگت اور کم صنعتی طلب ایک اہم مسئلہ رہی ہے۔ جب پیداواری اور ترسیلی صلاحیت موجود ہو لیکن استعمال کم رہے تو نظام کی مقررہ لاگت نسبتاً کم یونٹس پر تقسیم ہوتی ہے۔ انکریمنٹل پیکج کا معاشی منطق یہ ہے کہ اضافی طلب پیدا کرکے موجودہ نظام کا زیادہ استعمال کیا جائے، جبکہ صنعتوں اور زرعی صارفین کو اضافی پیداوار کے لیے نسبتاً قابل پیش گوئی بجلی نرخ فراہم کیے جائیں۔

نیپرا کی منظوری کے بعد پیکج کے عملی نفاذ میں تقسیم کار کمپنیوں کی بلنگ، بنیادی کھپت کے تعین اور اہل صارفین کی درجہ بندی اہم ہوگی۔ کاروباری اداروں کے لیے بھی ضروری ہوگا کہ وہ اسے عمومی ٹیرف میں مستقل کمی سمجھنے کے بجائے اپنی اضافی کھپت کے تناظر میں لاگت کا حساب کریں۔ حکومتی اور ریگولیٹری سطح پر اس پیکج کی کامیابی کا جائزہ اس بات سے لیا جائے گا کہ آیا اس سے صنعتی پیداوار، زرعی سرگرمی اور بجلی کی مجموعی طلب میں پائیدار اضافہ ہوتا ہے اور بجلی کے نظام پر مالی دباؤ کم کرنے میں مدد ملتی ہے یا نہیں۔