اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے صنعتی صارفین کے لیے اضافی بجلی کھپت کی حوصلہ افزائی کرنے والے پیکیج کے تحت 22.98 روپے فی یونٹ نرخ کی منظوری دی ہے۔ 7 نومبر کو سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ تین سالہ incremental consumption package سے متعلق ہے، جس کا بنیادی مقصد صنعتوں کو اپنی معمول کی یا مقررہ بنیاد سے زیادہ بجلی استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے۔
اس فیصلے کو عمومی صنعتی بجلی ٹیرف میں یکساں کمی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ منظور شدہ شرح اس اضافی کھپت کے لیے ہے جو پیکیج کی اہلیت اور مقررہ baseline کے مقابلے میں شمار ہوگی۔ صنعتی صارف کی باقی بجلی کھپت پر متعلقہ معمول کے قواعد اور نرخ لاگو رہ سکتے ہیں۔ یہی فرق اس فیصلے کے مالی اثر کو سمجھنے کے لیے اہم ہے، کیونکہ headline rate کو تمام صنعتی یونٹس پر لاگو قرار دینے سے اصل ریگولیٹری فیصلے کی نوعیت بدل جاتی ہے۔
حکومت اور توانائی کے شعبے کے پالیسی ساز ماضی میں بھی کم طلب کے اوقات یا دستیاب پیداواری صلاحیت کو صنعت کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے پیش کرتے رہے ہیں۔ اضافی کھپت پر نسبتاً کم شرح کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کارخانے پیداوار بڑھائیں، گرڈ پر موجود بجلی کی طلب بڑھے اور مقررہ پیداواری اخراجات زیادہ یونٹس پر تقسیم ہو سکیں۔ تاہم اس کے حقیقی نتائج صنعتی آرڈرز، خام مال، شرح سود، برآمدی طلب اور کاروباری لاگت جیسے عوامل سے بھی وابستہ رہیں گے۔
نیپرا کی منظوری ریگولیٹری عمل کا اہم مرحلہ ہے، لیکن ہر صنعتی صارف کے لیے حتمی مالی فائدہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ اس کی baseline کھپت کیا مقرر ہوتی ہے، کتنے اضافی یونٹس اہل قرار پاتے ہیں اور بلنگ کے دیگر اجزا کس طرح لاگو ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک فیکٹری یا شعبے کے لیے بچت کی مخصوص رقم دستیاب اعداد و شمار کے بغیر اخذ نہیں کی جا سکتی۔
پیکیج کا تین سالہ دورانیہ صنعت کو نسبتاً طویل منصوبہ بندی کا موقع دے سکتا ہے، جبکہ بجلی کے شعبے کے لیے اضافی فروخت آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ آئندہ مہینوں میں صنعتی کھپت، تقسیم کار کمپنیوں کی فروخت اور پیداواری سرگرمی کے اعداد و شمار سے واضح ہوگا کہ کم incremental rate نے طلب اور پیداوار پر کتنا عملی اثر ڈالا۔
