اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کا 90 فیصد حصہ نئے شفاف نیلامی نظام کے تحت فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد دستیابی بہتر بنانا، تقسیم میں شفافیت لانا اور قیمتوں میں غیر منصفانہ فرق کو محدود کرنا بتایا گیا ہے۔ بزنس ریکارڈر اور دیگر پاکستانی ذرائع کی 7 نومبر کی رپورٹوں کے مطابق نیلامی میں شریک ہر کمپنی کے لیے زیادہ سے زیادہ 20 میٹرک ٹن یومیہ کی مختص حد مقرر کی گئی ہے۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات میں ایل پی جی کی مناسب دستیابی اور منصفانہ قیمت شامل ہیں۔ پاکستان کے ایسے علاقوں میں جہاں پائپ لائن گیس محدود یا دستیاب نہیں، ایل پی جی گھریلو ایندھن کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے رسد اور تقسیم کے نظام میں تبدیلی براہ راست صارفین اور چھوٹے کاروباروں پر اثر ڈال سکتی ہے۔

نئے طریقہ کار میں 90 فیصد مقامی پیداوار کو مسابقتی نیلامی کے ذریعے مارکیٹ میں لانے سے حکومت یہ توقع رکھتی ہے کہ چند خریداروں کے پاس غیر متناسب مقدار جمع ہونے کا امکان کم ہوگا۔ فی کمپنی 20 میٹرک ٹن یومیہ کی حد بھی اسی مقصد سے منسلک ہے۔ تاہم نیلامی کے نتیجے میں آخری صارف کے لیے قیمت کتنی بدلے گی، یہ بولیوں، نقل و حمل کے اخراجات، درآمدی ایل پی جی کی قیمت اور موسمی طلب سمیت کئی عوامل پر منحصر ہوگا۔

ایل پی جی مارکیٹ میں سردیوں کے دوران طلب بڑھنے سے قیمت اور دستیابی کے مسائل زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے پالیسی کا اصل امتحان صرف نیلامی کے انعقاد میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوگا کہ مختص مقدار صارفین تک کس قیمت پر اور کتنی باقاعدگی سے پہنچتی ہے۔ حکومت نے نظام کو شفاف اور منصفانہ تقسیم کی سمت قدم قرار دیا ہے، جبکہ اس کے مکمل نتائج نفاذ کے بعد سامنے آئیں گے۔ دستیاب اعلان میں ہر نیلامی کی مکمل مدت اور تمام اہلیتی شرائط کی تفصیل شامل نہیں، اس لیے ان پہلوؤں پر مزید سرکاری ہدایات اہم ہوں گی۔